کراچی: صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے نوجوان میر رضا علی قتل کیس کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس سلسلے میں چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط ارسال کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کے ہمراہ مقتول میر رضا کے گھر پہنچ کر لواحقین سے تعزیت کی اور اہل خانہ کو مکمل انصاف کی یقین دہائی کرائی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضیا لنجار نے کہا کہ کیس کی متضاد میڈیکل رپورٹس کا جائزہ جوڈیشل کمیشن لے گا اور حکومت اس معاملے میں بالکل غیر جانبدار رہ کر حقائق سامنے لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ابتدائی طور پر کرائم سین کو مطلوبہ انداز میں محفوظ نہیں کیا جا سکا تھا، تاہم آئی جی یا کسی افسر کی رائے حتمی نہیں اور تمام تر شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔
کیس کی تحقیقات کا رخ موڑتے ہوئے پرانی ٹیم کو تبدیل کر کے ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کی سربراہی میں 5 رکنی نئی تحقیقاتی کمیٹی (JIT) تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس کمیٹی میں ایس ایس پی سید محمد علی رضا، ایس پی قیس خان، ایس پی انعم تجمل اور ایس آئی او غضنفر شامل ہیں۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ لواحقین جس پولیس افسر پر اعتماد کریں گے، اسے بھی اس ٹیم کا حصہ بنایا جائے گا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق کیس میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے کہ میر رضا کی شرٹ پر تیزاب کے اثرات پائے گئے ہیں اور جسم کو تیزاب سے جلانے کی کوشش کے شواہد بھی ملے ہیں۔ قبر کشائی کے بعد سامنے آنے والی میڈیکل رپورٹ میں جسم پر متعدد چوٹوں اور تشدد کے نشانات کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

