اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ 1973 کا آئین اور موجودہ پارلیمانی نظام ملک کو چلانے کے لیے بالکل بہترین ہے، ملکی مسائل کی اصل وجہ نظام کی خرابی نہیں بلکہ آئین پر مکمل عمل درآمد نہ ہونا ہے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے نئے صوبوں کے قیام کی افواہوں اور تجاویز کی تردید کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پارٹی یا حکومت کے کسی فورم پر نئے صوبے بنانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، لہٰذا یہ معاملہ ایجنڈے پر ہی نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمانی نظام نے گزشتہ پانچ دہائیوں سے ملک کو متحد رکھا ہوا ہے اور آئین کی پاسداری ہی تمام چیلنجز کا واحد حل ہے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے الیکشن کو شفاف قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) وہاں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جاری ترقیاتی کاموں کے مثبت اثرات سے متاثر ہو کر کشمیری عوام نے ن لیگ کے حق میں ووٹ دیا ہے۔
پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی پی پی نے الیکشن میں پروپیگنڈے کا سہارا لیا، تاہم اگلے مرحلے کے بعد وہ نتائج تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ مرحلے کی 10 نشستوں میں سے کم از کم 7 پر مسلم لیگ (ن) فتح حاصل کرے گی۔

