امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نیا قانونی دھچکا: 25 ڈیموکریٹک ریاستوں کا ٹیرف کے خلاف مقدمہ دائر

واشنگٹن: امریکی سیاست میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو اس وقت ایک نیا قانونی اور سیاسی دھچکا لگا جب ڈیموکریٹک قیادت والی 25 امریکی ریاستوں نے انتظامیہ کے حالیہ درآمدی ٹیرف (Import Tariffs) کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 25 ریاستوں کی جانب سے یہ مقدمہ ‘امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت’ (US Court of International Trade) میں دائر کیا گیا ہے۔

درخواست گزار ریاستوں کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے تقریباً 60 تجارتی شراکت داروں اور یورپی یونین پر نئے ٹیرف عائد کر کے اپنے قانونی اور انتظامی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ نئے محصولات دراصل ان پرانے ٹیرف کی جگہ نافذ کیے گئے ہیں جنہیں امریکی سپریم کورٹ پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے تجارتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے ٹیرف 1974 کے ٹریڈ ایکٹ کی شق 301 کے تحت قانونی طور پر نافذ کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان ٹیرف کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں جبری مشقت (Forced Labor) کے تحت تیار کی جانے والی مصنوعات کی درآمد روکنا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنا ہے۔