راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں دہشت گردوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں، انہیں یا تو آئین و قانون کے مطابق ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا پھر سکیورٹی فورسز انہیں ختم کر دیں گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا:
- مجموعی آپریشنز: گزشتہ 5 سالوں کے دوران ملک بھر میں 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے۔ بلوچستان میں 31 ہزار 80 اور خیبر پختونخوا میں 7 ہزار 177 آپریشنز شامل ہیں۔
- دہشت گردوں کی ہلاکتیں: کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد مارے گئے، یعنی اوسطاً روزانہ 10 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
- جانی نقصان: رواں سال 2026ء میں دہشت گردی کے واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں پاک فوج کے 303 جوان، دیگر اداروں کے 394 اہلکار اور 322 عام شہری شامل ہیں۔
- افغان ملوث ہونے کا عنصر: رواں سال 28 خودکش دھماکے ہوئے جن میں زیادہ تر افغان باشندے ملوث تھے۔ افغان طالبان regime دہشت گردوں کو سپورٹ کر رہی ہے اور دہشت گردی کو بطور کاروبار استعمال کر رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ وہاں کا سرداری نظام اور ایلیٹ طبقہ ہے جو نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ تعلیم حاصل کرے یا آگے بڑھے:
- لیویز کا استعمال: سردار چاہتے ہیں کہ لیویز فورس ان کے ذاتی گھروں کی چوکیداری کرے اور اربوں روپے کے بجٹ میں سے انہیں حصہ ملتا رہے۔
- عوام سے براہ راست رابطہ: ریاست بلوچستان کے عوام سے بات کرے گی، کسی سردار یا ایلیٹ سے نہیں۔
- لاپتا افراد کا پروپیگنڈا: مسنگ پرسنز کا بیانیہ ناکام ہو چکا ہے۔ لاپتا افراد کی فہرستوں میں شامل لوگ اکثر فتنۃ الہندوستان یا BLA کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی کارروائیوں یا سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں مارے جاتے ہیں۔
مسئلہ کشمیر، ہارڈ اسٹیٹ اور گڈ گورننس:
- کشمیر کی اہمیت: کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ اور شہ رگ ہے، اس کا فیصلہ کشمیریوں کی منشا کے مطابق الحاقِ پاکستان ہی ہوگا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں 10 لاکھ فوج کے باوجود کشمیریوں کے جذبے کو نہیں دبا سکا۔
- ہارڈ اسٹیٹ اور نئے صوبے: ہارڈ اسٹیٹ کا مطلب ملٹری کا ریاست چلانا نہیں بلکہ تمام امور کا آئین و قانون کے مطابق ہونا ہے۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ عوام اور سیاسی قیادت کو آئینی طریقہ کار کے تحت کرنا ہوگا، تاہم گڈ گورننس ناگزیر ہے۔
- شہداء کی عظمت: فلسفۂ شہادت پر غیر ذمہ دارانہ گفتگو ناقابل فہم ہے؛ افواج اور پولیس کی ریڑھ کی ہڈی شہداء کی قربانیاں ہیں۔

