سعودی عرب نے پاکستان کا 5 ارب ڈالر کا قرض 3 سال کے لیے رول اوور کر دیا

اسلام آباد: سعودی عرب نے پاکستان کو قلیل مدتی بیرونی ادائیگیوں میں بڑا مالی ریلیف فراہم کرتے ہوئے 5 ارب ڈالر کا قرض 3 سال کے لیے رول اوور کر دیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کی تصدیق وفاقی وزیرِ خزانہ نے کی ہے۔

ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے یہ رقم پاکستان کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو واجب الادا ادائیگیوں کے لیے فراہم کی تھی، جس کی ابتدائی مدت صرف 3 ماہ مقرر کی گئی تھی۔ تاہم اب اس قرض کی مدت میں 3 سال کی توسیعی منظوری کے بعد پاکستان پر سے فوراً بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نمایاں طور پر ختم ہو گیا ہے۔

  • سعودی عرب کے کل ڈپازٹس: اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق اس رول اوور کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں سعودی عرب کے مجموعی ڈپازٹس کی رقم 8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
  • رواں سال کی سہولت: حکام نے مزید بتایا کہ پاکستان نے رواں سال اپریل میں بھی سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی مالی سہولت حاصل کی تھی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان نے جاری ماہ جولائی کے دوران 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس بھی کیے ہیں، جس کے باوجود سعودی عرب کا 5 ارب ڈالر کا قرض رول اوور ہونا معیشت کے لیے آکسیجن ثابت ہوا ہے۔

  • سود کی ادائیگیوں میں کمی: غیر ملکی قرضوں پر سود کی مد میں بھی تقریباً نصف ارب (500 ملین) ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • آئندہ مالی ضروریات: مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات اب کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر کی نسبتاً کم سطح پر آ گئی ہیں۔

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کے اس اقدام سے جہاں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوں گے، وہی عالمی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد مزید مضبوط ہو گا۔