واشنگٹن: ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی شدت اور حکمت عملی پر امریکی عسکری و سیاسی قیادت کے درمیان شدید اختلافات اور واضح تقسیم سامنے آ گئی ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام اس بات پر متفق نہیں کہ ایران کے خلاف عسکری اقدامات کو کس حد تک بڑھایا جائے:
- بڑے فضائی حملوں کی تجویز: امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر دو ہفتوں تک جاری رہنے والے فضائی حملوں کے حامی ہیں تاکہ ایرانی عسکری صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
- اسلحہ و ایئر ڈیفنس کا تحفظ: اس کے برعکس جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ محتاط اندازِ فکر اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو اپنے ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز اور اہم ترین دفاعی ذخائر کو محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی ناگہانی یا طویل مدتی خطرے سے نمٹا جا سکے۔
اس تمام تر صورتحال میں حتمی فیصلے کا بوجھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کندھوں پر آن پڑا ہے۔
ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی بیس پر ایران کے حالیہ سرپرائز میزائل حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ امریکی ایئر ڈیفنس نے منٹوں میں تمام میزائل تباہ کر دیے، لیکن ایران کو اس حملے کا "انتہائی سخت جواب” دیا جائے گا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن کی آئندہ کی حکمت عملی خطے کی سیکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

