واشنگٹن: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اگست کے بعد ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اگر انہیں نیویارک میں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ان کے پاس خصوصی دستے موجود ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ ستمبر میں نیویارک کے دورے کو منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ جب ان سے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے گرفتاری وارنٹ کے خدشات پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ "اگر مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو میرے گرد خصوصی دستے موجود ہوں گے”، تاہم انہوں نے ان دستوں کے عملی کردار کی مزید وضاحت نہیں کی۔
نیتن یاہو کا یہ بیان نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے ان کی گرفتاری کے مطالبات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو نے میئر ممدانی پر شہر میں یہودی برادری کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
‘دی اکانومسٹ’ اور ‘یوگوو’ کے حال ہی میں سامنے آنے والے سروے کے مطابق 49 فیصد امریکی بالغ افراد کا ماننا ہے کہ نیتن یاہو کو نیویارک آمد پر آئی سی سی وارنٹ کے تحت گرفتار کیا جانا چاہیے، جبکہ 27 فیصد نے مخالفت اور 23 فیصد نے غیر یقینی کا اظہار کیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے بدعنوان ادارہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے وارنٹ مستقبل میں امریکی حکام اور فوجیوں کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔
نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اسرائیل کے خلاف کوئی پیش قدمی کی تو اسے زبردست اور سخت عسکری ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے خطے میں امن قائم کرنے اور معاہدہ ابراہیمی کا دائرہ کار سعودی عرب تک وسعت دینے کی خواہش کا بھی اعادہ کیا۔

