امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے اور اسلام آباد ایم او یو پر لانے کیلئے کوشاں ہیں: پاکستان

اسلام آباد: پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور صورت حال کو معمول پر لانے کے لیے فعال سفارتی کوششیں کر رہا ہے تاکہ فریقین کو ‘اسلام آباد ایم او یو’ اور ‘قطر ڈیکلریشن’ پر متفق کیا جا سکے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان کا ثالثی کردار اور خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ کویت، اردن اور بحرین کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون اپنے اپنے فریم ورک کے تحت مؤثر انداز میں جاری ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے غیر ریاستی عناصر کی جانب سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ سعودی عرب کو اپنی سلامتی اور دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔

افغانستان سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ افغان سرزمیں سے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے خلاف پاکستان اپنے تحفظ کے لیے تمام ضروری اور مؤثر کارروائیاں جاری رکھے گا۔

  • افغان مہاجرین کی توسیعی ویزا سہولت: انہوں نے واضح کیا کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے کسی افغان شہری کو بے دخل نہیں کیا گیا۔ انسانی بنیادوں پر تقریباً 16 ہزار افغان خواتین، بچوں اور بزرگوں کے قیام میں توسیع دی جا رہی ہے۔
  • چترال سرحدی واقعہ: چترال کے قریب پیش انے والے واقعے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ غیر مصدقہ رپورٹس پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا، افغانستان کی جانب سے آنے والی تمام اطلاعات کی زمینی سطح پر تصدیق ضروری ہے۔