موجودہ نظام تباہ ہوچکا، نئے انتظامی یونٹس اور صوبے وقت کی ضرورت ہیں: محسن نقوی

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی پہلی ‘اکنامک سمٹ’ کی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ملکی نظام پر شدید تنقید کی ہے اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی تشکیل کو تمام مسائل کا واحد حل قرار دیا ہے۔

وزیر داخلہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ "ہم جس سسٹم میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہو چکا اور گر چکا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کے تحت مسائل حل نہیں ہو سکتے، اور اگر بنیادی چیزوں کو ٹھیک نہ کیا گیا تو اگلے 10 سال بعد بھی ہم بیٹھ کر یہی باتیں کر رہے ہوں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بجٹ خسارے میں بنتا ہے اور ملک ہر سال مزید قرضوں کے تلے دبتا جا رہا ہے، جس کو ٹھیک کرنے کے لیے سسٹم کو ‘ری سیٹ’ کرنا ناگزیر ہے۔

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بھارت میں آزادی کے وقت 14 صوبے تھے جو اب 29 ہو چکے ہیں، لیکن پاکستان میں ہر صوبہ وسائل کے لیے صرف آبادی بڑھانے پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف و سہولیات کی فراہمی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانا ہوں گے اور اس معاملے کو عوام کے سامنے لے جانا ہو گا۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ "جب تک سیاستدان ملک کا نظام ٹھیک نہیں کریں گے، فیلڈ مارشل کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا”۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدارتی نظام کی بات نہیں کر رہے اور فیلڈ مارشل نے بھی بارہا کہا ہے کہ وہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ نظام میں بہتری کے لیے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔

نوجوان نسل کا ذکر کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ نوجوان ماہانہ دو چار ہزار روپے یا لیپ ٹاپ نہیں بلکہ میرٹ، شفافیت اور روزگار کے مواقع مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ "اگر یہ نوجوان يا کاکروچ اکٹھے ہو گئے تو ہر چیز کو الٹ کر رکھ سکتے ہیں”، اس لیے ان کے جذبات اور خواہشات کو سمجھ کر انہیں بااختیار بنانا ہو گا۔