پاکستان نے مقررہ مدت سے قبل 4 ہزار 722 ارب روپے کا ملکی قرضہ واپس کر دیا

اسلام آباد: پاکستان نے ملکی معاشی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔

وفاقی حکومت نے پہلی بار مقررہ مدت سے قبل 4 ہزار 722 ارب روپے (تقریباً 17 ارب ڈالر) کا خطیر قرضہ واپس کر دیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ قبل از وقت قرض ادائیگی پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی، مسلسل اور منظم ترین قرض واپسی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بنیادی اور مثبت تبدیلی کی عکاس ہے۔

مشیر خزانہ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران اب تک 2 ہزار 900 ارب روپے کی قبل از وقت ادائیگی کی جا چکی ہے، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔

قبل از وقت واپس کیے گئے اس بھاری قرض میں 51 فیصد حصہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کا ہے جبکہ بقیہ 49 فیصد دیگر تجارتی و مالیاتی اداروں سے حاصل کردہ قرضوں پر مشتمل ہے۔

اس زبردست واپسی کے نتیجے میں پاکستان کا مجموعی قرض برائے جی ڈی پی (Debt-to-GDP Ratio) 75 فیصد کی خطرناک سطح سے نمایاں حد تک گر کر تقریباً 68.5 فیصد کی محفوظ ترین سطح پر آ گیا ہے۔

خرم شہزاد کے مطابق، یہ غیر معمولی کامیابی محض قرض کی جلد واپسی تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ موجودہ حکومت کے سخت مالیاتی نظم و ضبط، کم خطرے پر مبنی معاشی حکمتِ عملی اور قرضوں کا بوجھ ہلکا کرنے کی سنجیدہ کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس تزویراتی اقدام کے باعث مستقبل میں ملکی قرضوں کی سروسنگ کی لاگت میں بڑی کمی واقع ہوگی، جس سے وفاقی بجٹ اور قومی خزانے پر دباؤ کم ہوگا اور حکومت کو دستیاب وسائل دیگر ترقیاتی کاموں، صحت، تعلیم اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔

بہتر قرض نظم و نسق (Debt Management) کی بدولت بین الاقوامی مارکیٹ اور ملکی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے اور ملک ایک کم لاگت اور پائیدار مالیاتی نظام کی طرف گامزن دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب معاشی ماہرین نے بھی اس تاریخی پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ یہ قرضوں کی واپسی ملکی معاشی ساکھ کے لیے ایک بڑا اور خوش آئند اقدام ہے، تاہم پاکستان کے معاشی استحکام کو طویل مدتی بنانے کے لیے برآمدات میں تیز رفتار اضافہ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا فروغ اور ٹیکس محصولات سمیت آمدنی کے دیگر ملکی ذرائع کو بہتر بنانا بدستور ناگزیر رہے گا۔