عوام پر پیٹرولیم بم گرا دیا گیا؛ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 13 روپے سے زائد کا بڑا اضافہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مہنگائی کی مروجہ لہر سے ستائی ہوئی عوام پر پیٹرولیم بم گراتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت بڑا اضافہ کر دیا ہے۔

وزارتِ توانائی کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق، حکومتِ پاکستان نے اگلے ایک ہفتے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ردوبدل کیا ہے، جس کا باقاعدہ اطلاق 11 جولائی 2026 رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔

نوٹیفکیشن کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 13 روپے 18 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 297 روپے 53 پیسے سے بڑھ کر 310 روپے 71 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اسی طرح عوامی و تجارتی ٹرانسپورٹ میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 309 روپے 50 پیسے سے بڑھا کر 323 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے مسلسل اضافے کے باعث حکومت نے اس کا پورا مالی بوجھ عوام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا خدشہ گزشتہ چند روز سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔

قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم ڈویژن نے پیٹرولیم لیوی کا نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے، جس کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر لیوی میں 9 روپے 64 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد اب پیٹرول پر فی لیٹر لیوی 70 روپے 36 پیسے سے بڑھ کر 80 روپے کی بلند سطح پر مقرر ہو گئی ہے۔

دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 70 روپے 82 پیسے اور مٹی کے تیل پر 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر لیوی کو پرانی سطح پر ہی برقرار رکھا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 4 جولائی کو حکومت نے عوام کو معمولی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 1 روپے 97 پیسے کی کمی کی تھی، تاہم ایک ہفتہ گزرنے کے بعد ہی حکومت نے اس ریلیف کو ختم کرتے ہوئے قیمتوں کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔