ایران امریکا کشیدگی؛ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہنگامی ٹیلی فونک رابطہ
راولپنڈی: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تصادم اور خلیجی خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر ایران کے وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلیفون پر ہنگامی رابطہ کیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ارنا’ اور نیم سرکاری نیوز ایجنسی ‘تسنیم’ کے مطابق، اس اہم گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خلیجی خطے میں حالیہ امریکی فضائی بمباری اور اس کے بعد پیدا ہونے والی شدید فوجی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے گفتگو کرتے ہوئے ایران پر ہونے والے حالیہ امریکی حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور انہیں اقوامِ متحدہ کے چارٹر سمیت پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU)’ کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
عباس عراقچی نے آرمی چیف پر واضح کیا کہ تہران کسی بھی امریکی جارحیت کے خلاف مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی حکام کے بیانات اور حالیہ بمباری اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ واشنگٹن اس امن معاہدے کی پاسداری کرنے میں مخلص نہیں ہے اور یہ کارروائیاں واشنگٹن کی روایتی جنگی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے دوٹوک انداز میں خبردار کیا کہ اگر امریکا کی جانب سے خطے میں مزید عسکری مہم جوئی یا کوئی فوجی کارروائی کی گئی، تو ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکنہ ضروری اقدام اٹھائے گا اور اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

