دماغ کو ہمیشہ جوان رکھنے کا آسان نسخہ؛ کوئی بھی نئی زبان سیکھنا دماغی عمر میں 13 سال تک کمی لا سکتا ہے
میڈرڈ: اگر آپ اپنے دماغ کو ہر عمر میں فٹ، متحرک اور جوان رکھنا چاہتے ہیں تو کسی نئی زبان کو سیکھنا شروع کر دیں۔
اسپین میں ہونے والی ایک حالیہ اور منفرد طبی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایک سے زیادہ زبانیں سیکھنے سے انسانی دماغ کی عمر بڑھنے کی قدرتی رفتار نمایاں طور پر سست ہو جاتی ہے۔
یہ مایہ ناز تحقیق ‘باسک سینٹر آن کوگنیشن، برین اینڈ لینگویج’ (Basque Center on Cognition, Brain and Language) کے ماہرین نے انجام دی ہے، جس کے نتائج نے طبی دنیا میں یادداشت اور دماغی صحت کے حوالے سے نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔
اس ریسرچ کے دوران سائنس دانوں نے پہلے مرحلے میں 728 افراد کو شامل کر کے ان کے دماغی اسکینز کیے۔ ان اسکینز کی مدد سے ایک خاص ‘برین ایجنگ کلاک’ (Brain Aging Clock) تیار کی گئی، جو دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان باہمی تعلق اور رابطوں کی بنیاد پر کسی بھی فرد کی اصل دماغی عمر کا درست تخمینہ لگاتی ہے۔
بعد ازاں، تحقیق کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے مزید 144 افراد کے ایک اور گروپ کی دماغی عمر کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے حتمی نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد روزمرہ زندگی میں ایک سے زیادہ زبانیں بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ان کے دماغ صرف ایک زبان بولنے والے افراد کے مقابلے میں 6 سے 13 سال تک زیادہ جوان اور متحرک ہوتے ہیں۔
ڈیٹا کے مطابق، انسان جتنی زیادہ زبانوں سے واقف ہو گا، اس کا دماغ بڑھاپے کے اثرات سے اتنا ہی محفوظ رہے گا۔ سائنسی ماہرین نے اعداد و شمار کے ساتھ واضح کیا کہ:
- دو زبانیں بولنے والے افراد کا دماغ عام لوگوں سے 6 سال زیادہ جوان نظر آتا ہے۔
- تین زبانیں جاننے والوں کا دماغ 7 سال زیادہ نوجوانوں جیسا ردعمل دیتا ہے۔
- چار زبانیں بولنے کی مہارت رکھنے والے افراد کے دماغی ڈھانچے اور عمر میں 13 سال تک کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
محققین کا کہنا ہے کہ آسان الفاظ میں ایک سے زیادہ زبانوں کا استعمال دماغ کے لیے ایک بہترین ورزش ثابت ہوتا ہے۔ نوجوانی کے دور میں کوئی بھی نئی زبان سیکھنے سے دماغی خلیات کے بوڑھے ہونے کا عمل رک جاتا ہے۔
ہسپانوی ماہرین نے بتایا کہ اس کامیاب تحقیق کے بعد اب ان کا اگلا ہدف یہ جاننا ہے کہ زبانیں سیکھنے کے اس عمل سے الزائمر (بھولنے کی بیماری) اور ڈیمینشیا جیسے خطرناک دماغی امراض کے سدِباب پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، تاکہ مستقبل میں اس طریقہ کار کو بطور علاج استعمال کیا جا سکے۔

