نیویارک: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 32 کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تاریخی ناک آؤٹ مقابلے میں انگلینڈ نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے ڈی آر کانگو کو ایک کے مقابلے میں دو (1-2) گول سے شکست دے کر پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔
میچ کا آغاز افریقی ٹیم ڈی آر کانگو نے انتہائی جارحانہ انداز میں کیا اور کھیل کے ساتویں ہی منٹ میں ان کے اسٹار کھلاڑی سیپنگا نے ایک بہترین گول کر کے اپنی ٹیم کو 1-0 کی غیر متوقع برتری دلا دی۔
اس کامیابی کے بعد اب اگلے مرحلے (راؤنڈ آف 16) میں انگلینڈ کا مقابلہ میزبان میکسیکو سے ہو گا، جس نے حال ہی میں ایکواڈور کو شکست دے کر 40 سال بعد پہلی بار کوالیفائی کیا ہے۔
میچ کے پہلے ہاف کے دوران انگلش ٹیم کو اس وقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب ایک تیز رفتار جوابی حملے کے دوران کپتان اور مایہ ناز اسٹرائیکر ہیری کین کو ڈی آر کانگو کے پنالٹی ایریا (ڈی) کے اندر فاؤل کر کے گرایا گیا، لیکن ریفری نے انگلینڈ کی اپیل کے باوجود پنالٹی دینے سے صاف انکار کر دیا۔
اسی وجہ سے پہلے ہاف کے اختتام تک ڈی آر کانگو کی 1-0 کی برتری برقرار رہی۔
تاہم، دوسرے ہاف میں انگلینڈ کی ٹیم بالکل مختلف حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں اتری اور پے در پے حملے شروع کیے۔
کھیل کے 75 ویں منٹ میں ہیری کین نے ایک خوبصورت اور طاقتور ہیڈر کے ذریعے گیند کو جال کے سپرد کر کے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔
اس کے بعد میچ کے 86 ویں منٹ میں ہیری کین نے ایک اور شاندار فیلڈ گول داغ کر انگلینڈ کو 2-1 کی فیصلہ کن برتری دلا دی جو میچ کے اختتام تک قائم رہی۔
اس میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ہی انگلش کپتان ہیری کین نے عالمی فٹبال کی تاریخ کا ایک بہت بڑا سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
انہوں نے اس میچ میں 2 گول کر کے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں برازیل کے لیجنڈ اور فٹبال کے بادشاہ کہلانے والے ‘پیلے’ کے 12 گولز کا ریکارڈ توڑ دیا۔
اس کامیابی کے بعد ورلڈ کپ کے تمام ایڈیشنز میں ہیری کین کے مجموعی گولوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پانامہ کے خلاف میچ میں بھی گول کر کے ہیری کین انگلینڈ کی جانب سے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بنے تھے۔
اس کے علاوہ، وہ اب تک انگلینڈ کی جانب سے 117 بین الاقوامی میچوں میں ریکارڈ 84 گول اسکور کر چکے ہیں، جس کی بدولت وہ انگلینڈ کی فٹبال تاریخ کے سب سے کامیاب اور سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی کا اعزاز بھی اپنے پاس رکھتے ہیں۔
ان کی اس جادوئی فارم نے انگلش شائقین کی عالمی کپ جیتنے کی امیدوں کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔

