امریکا ایران جنگ میں اللہ نے پاکستان سے کام لیا، دنیا اب ہمیں ‘پیس میکر’ مانتی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
لاہور: نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے 983 ویں سالانہ غسل مبارک کی بابرکت تقریب میں شرکت اور میڈیا سے گفتگو کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی، بجٹ اور جیو پولیٹیکل منظرنامے پر انتہائی اہم اور تاریخی نوعیت کے بیانات دیے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے مابین حالیہ خوفناک جنگ کے خاتمے اور دونوں حریفوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پاکستان سے ایک عظیم تاریخی کام لیا ہے، جس کی بدولت آج پوری دنیا پاکستان کو "پیس میکر” (امن کا علمبردار) کے نام سے جان رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معرکۂ حق میں دنیا نے پاکستان کی منفرد سفارتی فتح دیکھی ہے اور عالمی برادری ہماری تزویراتی صلاحیتوں کی معترف ہو چکی ہے۔
اسحاق ڈار نے صدرِ مملکت، وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی جانب سے پوری قوم کو اس عظیم کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔
اسحاق ڈار نے تاریخی پسِ منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مخلصانہ ثالثی اور سہولت کاری کا کردار ادا کرتے ہوئے پورے 47 سال بعد ایران اور امریکہ کو ایک میز پر بٹھایا ہے، جو اس سے قبل کبھی خود سے نہیں بیٹھے تھے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی کامیابی اور بیک ڈور ڈپلومیسی (Backdoor Diplomacy) کے ٹیم کپتان وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر تھے، جنہوں نے امن کے قیام کے لیے دن رات انتھک محنت کی۔ اس تاریخی امن معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دستخط کیے ہیں، اور اس دستاویز کو باقاعدہ طور پر قومی اسمبلی کے ریکارڈ پر بھی رکھ دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ ایران پر عائد پابندیاں فوری طور پر یکمشت ختم نہیں کی جا رہی ہیں، لیکن اس ڈیل سے خطے میں امن کی نئی راہ ہموار ہوئی ہے اور اب دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کی عزت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
سخت تزویراتی موقف اختیار کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے واشگاف الفاظ میں خبردار کیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، جس کے پروگرام میں ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک سب نے اہم کردار ادا کیا۔
اگر اب کسی نے بھی پاکستان کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے کی غلطی کی تو ہم اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب 28 فروری کو برادر اسلامی ملک ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک تھا جس نے امریکی و اسرائیلی حملے کی فوراً اور سخت ترین مذمت کی، جبکہ کسی دوسرے اسلامی ملک نے اس مشکل وقت میں یہ جرات نہیں دکھائی۔
جو لوگ کہتے تھے کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا اور دہشت گرد ملک ہو چکا ہے، آج انہیں شدید رسوائی کا سامنا ہے۔
ملکی معیشت اور بجٹ پر بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ماضی کے تباہ کن فیصلوں کی وجہ سے جو معیشت ہمیں ورثے میں ملی وہ انتہائی خراب تھی، تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے ڈوبتی ہوئی ملکی معیشت کو سہارا دے کر دوبارہ ترقی کی پٹری پر ڈال دیا ہے۔
انہوں نے داتا دربار کے مزار پر قوم سے خصوصی دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان جلد ایک عظیم معاشی قوت بنے گا اور یہاں کی دھرتی سے تیل اور سونا بھی نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے اور تاجروں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا گیا ہے اور ہم بین الاقوامی یو این چارٹر پر عمل کرتے ہوئے چھوٹے اور بڑے تمام ممالک کی سالمیت کا یکساں احترام کرتے ہیں۔

