ہیڈلائن ڈپلومیسی کی بجائے خاموش ثالثی؛ امریکہ ایران جنگ رکوانا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بغیر لڑے تاریخی فتح ہے، سکیورٹی ذرائع

پاکستان کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے صحافیوں کے ساتھ ایک خصوصی اور تفصیلی گفتگو میں ملک کے اندرونی چیلنجز اور حالیہ علاقائی و بین الاقوامی سفارتی کامیابیوں پر اہم ترین حقائق سامنے رکھے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان انتہائی پیچیدہ اور سنگین معاملے پر ایک مخلص اور غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا اس پورے معاملے میں صرف ایک ہی مفاد تھا اور وہ ہے خطے کا امن اور استحکام۔

ذرائع نے بتایا کہ اگر خدانخواستہ یہ جنگ نہ رکتی تو اس کے عالمی توانائی، معیشت اور سکیورٹی پر انتہائی بھیانک اثرات مرتب ہوتے جس کے جھٹکے امیر اور غریب سب کو لگتے۔

پاکستان ‘ہیڈلائن ڈپلومیسی’ پر یقین نہیں رکھتا، بلکہ اس نے خاموشی سے ثالثی کے تمام تقاضے پورے کیے۔ یہ ایک ایسی عظیم لڑائی تھی جسے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی اخلاص، حکمتِ عملی اور اعلیٰ صلاحیتوں سے بغیر لڑے ہی جیت لیا۔

اس امن مشن میں سعودی عرب، قطر، ترکیے، مصر اور یو اے ای نے بھی پاکستان کی آواز پر لبیک کہا اور ان برادر ممالک کو بھی اس کا کریڈٹ جاتا ہے، جبکہ اب بھی اسرائیل جیسے عناصر بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے اس ڈیل میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ بھارت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اتنے تنگ نظریے سے چیزوں کو نہیں دیکھتا، ہمیں اس دورے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ملکی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے 15 جون 2026 تک کے چونکا دینے والے سکیورٹی اعداد و شمار جاری کیے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک ملک بھر میں 32,092 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے جا چکے ہیں۔ اس دوران دہشت گردی کی 2,170 کارروائیاں رپورٹ ہوئیں، جن میں سے 64 فیصد خیبر پختونخوا اور 34 فیصد بلوچستان میں ہوئیں۔

فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1,861 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، جن میں سے 862 دہشت گرد سرحد پار افغانستان میں جاری آپریشن ‘غضب للحق’ کے دوران مارے گئے جبکہ 999 دہشت گرد پاکستان کے اندر ہلاک ہوئے۔

اس پاک دھرتی کے دفاع کی خاطر پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور شہریوں سمیت 640 معزز جانوں نے شہادت کا رتبہ پایا۔

سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ ہمارا مسئلہ افغانستان کی دہشت گرد رجیم (خوارج) سے ہے، وہاں کے معصوم عوام سے نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی موجودہ جنگ کے تناظر میں پاکستان کا دفاعی بجٹ کافی کم ہے، جس کا احساس ملٹری اور سیاسی قیادت دونوں کو ہے۔

آزاد کشمیر اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں ملٹری طاقت کے باوجود ناکامی کے بعد اب بھارتی مودی سرکار اور بی جے پی نے آزاد کشمیر میں آگ لگانے کے لیے بھاری فنڈنگ کی ہے۔

آزاد کشمیر میں حقوق کی تحریک کے نام پر شروع ہونے والے ‘جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی’ (JAAC) کے اصل ایجنڈے اور تخریبی کہانی سے ریاست پوری طرح باخبر ہے کہ یہ لوگ کدھر سے آپریٹ ہو رہے ہیں۔

اسی طرح جب ‘بلوچ یکجہتی کمیٹی’ (BYC) کو دہشت گرد تنظیم کہا گیا تھا تب بھی شور مچا تھا، مگر وہ بھی اب کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ جے اے اے سی دکانیں کھولنے والے معصوم شہریوں کو آگ لگانے کی دھمکیاں دے رہی ہے اور ریاست مخالف نعرے لگا رہی ہے۔

انہوں نے ایک خوبصورت مثال دیتے ہوئے کہا کہ "ریاست ہمیشہ پہلے ماں بن کر پیار محبت سے ڈیل کرتی ہے اور بعد میں باپ بنتی ہے”، لہٰذا ان عناصر کو اب آئینی اور قانونی طریقے سے سختی سے ڈیل کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کالعدم بی ایل اے (BLA) کو بلوچستان کے کچھ بڑے سردار اسپانسر کر رہے ہیں جو وہاں بیرونی سرمایہ کاری نہیں آنے دینا چاہتے۔

بریفنگ کے اختتام پر سکیورٹی ذرائع نے اڈیالا جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی کسی بھی قسم کی خفیہ ملاقات یا مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے۔

سکیورٹی حکام نے دوٹوک الفاظ میں اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کی ملکی تاریخ کی سیاہ ترین کارروائی کرنے اور کروانے والے تمام ماسٹر مائنڈز اور سہولت کاروں کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور جو لوگ اس وقت روپوش ہیں، قانون ان کے خلاف اپنا راستہ خود بنائے گا۔

اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کا مؤقف واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اس پر کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتا، پاکستان اپنے آبی مفادات کا تحفظ کرنا اچھی طرح جانتا ہے۔