برمنگھم میں کھیلے گئے آئی سی سی ویمنز ٹی20 ورلڈکپ کے گروپ 1 کے ایک اہم معرکے میں بھارت نے پاکستان ویمنز ٹیم کو 64 رنز سے یکطرفہ مقابلے کے بعد شکست دے دی ہے۔
بھارت کی جانب سے دیے گئے 171 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں گرین شرٹس کی پوری ٹیم تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی اور 17ویں اوور میں محض 106 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔
پاکستان کی جانب سے اوپنرز منیبہ علی اور گل فیروزہ نے 38 رنز کا اچھا آغاز فراہم کیا تھا، تاہم 12 کے انفرادی اسکور پر گل فیروزہ کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستانی ٹیم اپنا مومنٹم برقرار نہ رکھ سکی۔
مڈل آرڈر اور لوئر آرڈر بیٹرز بھارتی بولنگ لائن کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئیں اور پاکستان کی 6 بیٹرز ڈبل فگرز میں بھی داخل نہ ہو سکیں۔ گرین شرٹس کی جانب سے منیبہ علی 41 رنز بنا کر سب سے نمایاں رہیں، جبکہ عالیہ ریاض نے 18 اور عائشہ ظفر نے 12 رنز بنائے۔ کپتان فاطمہ ثنا اور تسمیہ رباب بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئیں۔
بھارت کی جانب سے دیپتی شرما نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے 4 اوورز میں صرف 10 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ شری چرانی نے 3 اور شفالی ورما نے 1 وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل، بھارتی ویمنز ٹیم کی کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بھارت نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز کا مضبوط اسکور کھڑا کیا۔
بھارت کی جانب سے اسٹار اوپنر سمرتی مندانا نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 68 رنز کی پراعتماد اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ کپتان ہرمن پریت کور نے 36 رنز بنائے جبکہ رچا گھوش نے دھواں دھار بیٹنگ کرتے ہوئے محض 17 گیندوں پر 34 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر مجموعے کو 170 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی جانب سے سعدیہ اقبال اور کپتان فاطمہ ثنا نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ رامین شمیم اور تسمیہ رباب کے حصے میں 1، 1 وکٹ آئی۔
میچ کے روایتی ہیجان کے علاوہ اس وقت ایک عجیب صورتحال دیکھنے کو ملی جب ٹاس کے دوران بھارتی کپتان نے اسپورٹس مین اسپرٹ کے برعکس پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا سے ہاتھ نہیں ملایا اور ٹاس جیتنے کے بعد انٹرویو دے کر سیدھی ڈریسنگ روم روانہ ہو گئیں، جس پر سوشل میڈیا اور شائقینِ کرکٹ کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اس بڑی جیت کے ساتھ بھارت نے ورلڈ کپ کے اگلے مرحلے کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے جبکہ پاکستان کو ایونٹ میں بقیہ میچز جیتنے کے لیے اپنی کارکردگی میں بڑی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔

