ایوانِ صدر میں آصف علی زرداری اور شہباز شریف کی اہم بیٹھک، بجٹ تجاویز پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اتفاق

اسلام آباد: وفاقی بجٹ کی پیش کش سے قبل ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں۔ ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی بجٹ 2026 سمیت آزاد کشمیر کی صورتحال اور گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

ذرائع کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کردہ بیشتر بجٹ تجاویز سے اتفاق کر لیا ہے، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے بجٹ منظور کروانے کے لیے حکومت کو ‘گرین سگنل’ دے دیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بقیہ قابلِ عمل نکات پر دونوں جماعتوں کی تکنیکی کمیٹیاں مشاورت جاری رکھیں گی۔ اس اہم پیش رفت کے بعد وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ کا اعلان بھی آج ہی متوقع ہے۔

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی بڑی کامیابی پر صدر زرداری کو مبارکباد پیش کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ "نوجوان بلاول نے ہم سے کہیں بہتر انتخابی مہم چلائی۔”

جس پر صدر آصف زرداری نے برجستہ اور مسکراتے ہوئے جواب دیا: "آخر بیٹا کس کا ہے!” اس جملے پر ایوانِ صدر کا ماحول خوشگوار ہو گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور نے بھی شرکت کی، جہاں ریاست کی حالیہ کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر زرداری اور بلاول بھٹو نے حکومت کو تجویز دی کہ آزاد کشمیر کے معاملات کو طاقت کے بجائے سیاسی طریقے سے حل کیا جائے اور احتجاجی گروپوں کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے اپنی سابقہ بجٹ تجاویز پر عمل درآمد نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔ اسی تناظر میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ون آن ون علیحدہ ملاقات بھی کی، جس میں وزیراعظم نے یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی کی سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ عوامی ریلیف کو یقینی بنایا جا سکے۔