گلگت بلتستان انتخابات کے غیر حتمی نتائج؛ پیپلز پارٹی 10 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے، ن لیگ اور آزاد امیدواروں کا سخت مقابلہ

گلگت: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 24 براہِ راست نشستوں پر ہونے والے عام انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ مکمل ہو چکا ہے، جس کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) 10 نشستیں حاصل کر کے سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ تاہم، کوئی بھی واحد جماعت حکومت سازی کے لیے درکار 17 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی، جس کے بعد آزاد امیدواروں کا کردار انتہائی اہم ہو گیا ہے۔

انتخابی نتائج کے مطابق حلقہ جی بی اے 1 (گلگت 1) سے پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10,594 ووٹ لے کر واضح برتری سے کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق دوسرے نمبر پر رہے۔ اسی طرح جی بی اے 4 اور جی بی اے 5 (نگر) کے حلقوں سے بالترتیب پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر اور ذوالفقار علی مراد کامیاب قرار پائے۔

اسکردو میں بھی کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملے۔ جی بی اے 7 (اسکردو 1) میں بڑا اپ سیٹ ہوا جہاں موجودہ گورنر گلگت بلتستان کے صاحبزادے سید توقیر مہدی (پی پی پی) 4,337 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے، جبکہ سابق گورنر راجہ جلال حسین خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جی بی اے 8 (اسکردو 2) سے مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 10,474 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ دوسرے نمبر پر رہے۔

سیاسی جوڑ توڑ کے لحاظ سے آزاد امیدواروں نے انتخابات میں زبردست کارکردگی دکھائی ہے اور 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ جی بی اے 3 (گلگت 3) سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس 7,877 ووٹ لے کر جیتے، جبکہ ہنزہ (جی بی اے 6) سے بھی آزاد امیدوار نیک نام کریم نے میدان مارا۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) غذر، استور اور گھانچے کے علاقوں سے 4 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جہاں جی بی اے 22 (گھانچے 1) سے محمد ابراہیم ثنائی 9,308 ووٹ لے کر فاتح ٹھہرے۔

حلقہ جی بی اے 14 (استور 2) کا نتیجہ اس وقت شدید تنازع کا شکار ہو گیا جب پیپلز پارٹی کے امیدوار سید عباس موسوی نے بعض پولنگ اسٹیشنز پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کی۔ الیکشن کمیشن نے اس حلقے کا عارضی نتیجہ روک دیا ہے جہاں مسلم لیگ (ن) کے رانا فاروق کو معمولی برتری حاصل تھی۔

یاد رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے جس میں 24 براہِ راست منتخب، 6 خواتین اور 3 ٹیکنو کریٹس کے لیے مخصوص ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے یا ن لیگ کوئی نیا سیاسی اتحاد قائم کرتی ہے۔