جی بی الیکشن کا فیصلہ اسلام آباد کا ‘بابو’ نہیں، وہاں کے عوام کریں گے؛ بلاول بھٹو کا شگر میں دبنگ خطاب
شگر: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاق پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتظامی معاملات میں وفاقی بیوروکریسی کی مداخلت کے سخت خلاف ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان خطوں کے فیصلے اسلام آباد میں بیٹھا کوئی ‘بابو’ (بیوروکریٹ) نہیں بلکہ وہاں کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے خود کریں۔
حلقہ جی بی اے 12 شگر میں ایک بہت بڑے انتخابی جلسہِ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں میں نیا جوش بھر دیا۔ انہوں نے پی ڈی ایم (PDM) سے ماضی کے اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں تو پوری پی ڈی ایم کو ناراض کر کے آپ کے پاس آیا تھا اور ایک بار پھر یہاں آپ کا ساتھ مانگنے آیا ہوں۔ گلگت بلتستان کے عوام نے تین نسلوں سے جئے بھٹو کے نعرے کا ساتھ دے کر کبھی پیپلز پارٹی کو مایوس نہیں کیا۔ کچھ لوگ اس غلط فہمی میں تھے کہ یہاں عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں رہے گا، لیکن ہم ان کی تمام سازشیں ناکام بنائیں گے۔
بلاول بھٹو نے شفاف انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کارکنوں اور ووٹرز کو ایک انوکھا ٹاسک دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے الیکشن کے دن بھاری تعداد میں گھروں سے نکلنا ہے، اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دینا ہے اور فارم 45 ہاتھ میں لے کر ہی واپس جانا ہے۔ فارم 45 کو آپ کامیاب کریں، فارم 47 کا بندوبست میں خود کر لوں گا۔ ہم نے کبھی سلیکشن یا کسی غیر جمہوری حمایت کی بھیک نہیں مانگی۔ مجھے یقین ہے کہ اس بار ہماری کوئی سیٹ چوری نہیں ہو سکے گی۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی سے مبینہ طور پر 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، لیکن اس بار ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔
چیئرمین پی پی پی نے ایک بڑا سیاسی حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن اسی وقت ہونے چاہئیں جب پاکستان میں جنرل الیکشن ہوں، کیونکہ جب دونوں انتخابات ایک ساتھ ہوں گے، تب ہی صحیح معنوں میں ان خطوں کی حقِ حاکمیت یقینی بنے گی۔
وفاقی حکومت کے معاشی بحران پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد والے ہر چیز کو اپنے پاس سے چلانا چاہتے ہیں، چاہے وہ گوادر ہو، کراچی ہو یا گلگت بلتستان۔ اگر وفاق واقعی کنگال ہو چکا ہے تو وہ سب سے پہلے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی وفاقی وزارتیں بند کرے اور یہ اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کرے۔
انہوں نے تھر کول منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پہاڑوں، زمینوں اور قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا مانتی ہے۔
بلاول بھٹو نے دیگر سیاسی جماعتوں پر ‘بی آئی ایس پی’ کو بند کرنے کی سازش کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اب ایک نئی سوچ کے تحت اس وفاقی پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، جس کا صاف مطلب اس فلاحی منصوبے کو بند کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں وفاقی حکومتیں ایسے غریب پرور پروگرام چلاتی ہیں اور پیپلز پارٹی اس کا تحفظ کرے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اپنے دورِ وزارتِ خارجہ میں انہوں نے افغان حکومت کو بھی غریبی مکاؤ مہم کے لیے BISP کو بطور ماڈل اپنانے کا مشورہ دیا تھا۔
آخر میں انہوں نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امن کی ضرورت پر زور دیا اور ایران میں حالیہ جانی نقصان اور معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

