کوئی جوہری مواد تباہ نہیں ہوگا، منجمد اثاثوں سے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی اور 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجاویز؛ ایرانی میڈیا
تہران: امریکہ کے ساتھ ممکنہ 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے ایرانی حکومت اور میڈیا کا سخت موقف سامنے آیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اگرچہ امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدہ ایران میں توثیق کے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات ’سچ اور جھوٹ کا مجموعہ‘ ہیں، جن کا مقصد دنیا کے سامنے اپنی ایک من گھڑت عسکری اور سفارتی فتح دکھانا ہے۔
ایرانی ذرائع نے امریکی صدر کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کا زیرِ زمین دبا ہوا افزودہ یورینیم (نیوکلیئر ڈسٹ) نکال کر تباہ کیا جائے گا۔
باخبر ذرائع نے واضح کیا کہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کے مسودے میں ایران کے کسی بھی جوہری مواد کو تباہ کرنے یا اسے امریکی نگرانی میں دینے سے متعلق کوئی شق شامل نہیں۔ اس حوالے سے واشنگٹن کی جانب سے کیے جانے والے تمام دعوے سراسر بے بنیاد ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ایران نے ٹرمپ کے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس یا ٹول ٹیکس کے کھولا جائے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو ضرور کھولے گا، لیکن یہ مکمل طور پر ایران کی طے شدہ شرائط کے مطابق ہوگا۔ ایرانی منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی نگرانی، تلاشی، سکیورٹی اقدامات اور خدمات کی فراہمی کا اختیار ایران کے پاس رہے گا۔
ایرانی میڈیا نے معاہدے کی اصل جزیات کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ تاحکمِ ثانی مالی ادائیگی نہ کرنے کے دعوے میں جھوٹ بول رہا ہے، کیونکہ مسودے میں امریکہ کی جانب سے ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی فوری ادائیگی شامل ہے۔ مزید برآں، اس معاہدے میں لبنان میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے حزب اللہ کے موقف کے مطابق مکمل جنگ بندی کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا (نیویارک ٹائمز) نے بھی اس ممکنہ معاہدے کے مالیاتی پہلوؤں پر بڑے انکشافات کیے ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے ابتداء میں امریکہ کی طرف سے پہنچنے والے عسکری و معاشی نقصانات کے ازالے کے طور پر 300 ارب سے ایک کھرب ڈالر تک کے ہرجانے کا تخمینہ لگایا تھا۔
تاہم، امریکی فریق نے ‘ہرجانے’ کی قانونی اصطلاح سے بچنے کے لیے اسے ایک "بین الاقوامی سرمایہ کاری فنڈ” کا نام دینے کی تجویز دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے قریبی رفقاء، اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے تہران میں رئیل اسٹیٹ منصوبوں اور اس عظیم سرمایہ کاری فنڈ کی پیشکش کی ہے تاکہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
واضح رہے کہ تہران اور واشنگٹن دونوں اطراف سے بیانات میں تضاد ظاہر کرتا ہے کہ 60 روزہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل دونوں ممالک اپنے اپنے عوام کے سامنے برتری ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حتمی توثیق ہونا ابھی باقی ہے۔

