استنبول: امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کے خاتمے اور خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جا رہا ہے۔
ترک سرکاری میڈیا ٹی آر ٹی (TRT) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک ہمسایہ ملک بلکہ دونوں فریقین (واشنگٹن اور تہران) کے مابین ایک "قابلِ اعتماد ثالث” کے طور پر ابھرا ہے، جس نے روایتی تشہیر کے بجائے خاموش اور مؤثر سفارت کاری کو ترجیح دی۔
ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس بحران کے دوران انتہائی مشکل حالات میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کا سلسلہ ٹوٹنے نہیں دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارت کاری عوامی تشہیر کے بجائے خاموش روابط اور ‘بیک چینل ڈپلومیسی’ پر مبنی ہے۔ انہوں نے منظم انداز میں دونوں ممالک کے تحفظات کو ایک دوسرے تک پہنچایا اور مذاکرات کی راہ ہموار کی، جو علاقائی امن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جغرافیہ، اس کی مضبوط عسکری و انٹیلیجنس ساکھ، اور بیک وقت امریکہ و ایران کے ساتھ متوازن روابط نے اسے ایک ایسی منفرد حیثیت دے دی ہے جو خطے کی کسی دوسری قوت کے پاس نہیں ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی عسکری قیادت اب محض دفاع تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ اقتصادی راہداری، علاقائی روابط اور بین الاقوامی سفارت کاری کے ایک مضبوط ضامن کے طور پر ابھری ہے۔
ٹی آر ٹی نے پاکستان اور سعودی عرب کے حالیہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی علاقائی ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔ پاکستان نے ایک طرف جہاں مغربی سرحدوں پر دہشت گردی کے خلاف سخت ترین مؤقف اپنایا ہے، وہیں دوسری طرف امریکہ، چین، خلیجی ریاستوں، ایران اور ترکیہ کے ساتھ اپنے فعال روابط کو برقرار رکھ کر ایک "گلوبل پلیئر” کا ثبوت دیا ہے۔
رپورٹ میں جہاں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا تذکرہ کیا گیا، وہیں یہ مشورہ بھی دیا گیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنا یہ اثر و رسوخ مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے اپنے اندرونی معاشی مسائل پر قابو پانا ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان کی ثالثی کو سراہا گیا ہو؛ اس سے قبل امریکی اخبار ‘واشنگٹن ٹائمز’ سمیت سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور خود ایرانی حکام بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس مصالحتی کردار کا اعتراف کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔

