قومی بچت اسکیموں کے منافع میں 2.20 فیصد تک کا بڑا اضافہ؛ وفاقی حکومت نے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مہنگائی کے تناظر میں سرمایہ کاروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے قومی بچت (نیشنل سیونگز) اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں پر منافع کی شرح میں 1 فیصد سے لے کر 2.20 فیصد تک کا نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، منافع کی ان نئی شرحوں کا ملک بھر میں فوری طور پر 26 مئی 2026 سے اطلاق کر دیا گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق بعض اہم اسکیموں پر منافع کی شرح بڑھائی گئی ہے جبکہ متعدد روایتی اسکیموں کی شرح کو بغیر کسی تبدیلی کے پرانی سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔ نئی مقرر کردہ سالانہ شرحِ منافع کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ/اکاؤنٹ: اس اسکیم پر سرمایہ کاروں کو ابتدائی 5 منافع جات کے لیے سالانہ 11.6 فیصد منافع دیا جائے گا، جبکہ آخری یعنی چھٹے منافع کی شرح 12.4 فیصد سالانہ مقرر کی گئی ہے۔

  • ریگولر انکم سرٹیفکیٹ: ماہانہ بنیادوں پر منافع فراہم کرنے والی اس اسکیم پر منافع کی شرح بڑھا کر 11.82 فیصد سالانہ کر دی گئی ہے۔

  • سیونگ اکاؤنٹ (بچت کھاتہ): عام سیونگ اکاؤنٹ پر منافع کی شرح 10 فیصد سالانہ مقرر کی گئی ہے۔

  • شارٹ ٹرم سیونگز سرٹیفکیٹس (مختصر مدت): 3 ماہ، 6 ماہ اور 1 سال کی مدت کے سرٹیفکیٹس پر بالترتیب 10.84 فیصد، 10.58 فیصد اور 11.23 فیصد سالانہ منافع دیا جائے گا۔

حکومت نے پہلی بار روایتی اسکیموں کے ساتھ ساتھ شریعت کے مطابق کام کرنے والی سروا اسلامک اسکیموں کے پرافٹ ریٹس بھی بڑھائے ہیں۔ نئے نوٹیفکیشن کے تحت ایک سالہ سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹ (SITA) پر متوقع سالانہ منافع 10.93 فیصد جبکہ 5 سالہ اکاؤنٹ پر 11.16 فیصد متوقع سالانہ منافع رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سروا اسلامک سیونگ اکاؤنٹ (SISA) کی شرح میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے نچلے اور معمر طبقے کے تحفظ کے لیے ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹ، بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہداء فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ کی شرحِ منافع میں کوئی ردو بدل نہیں کیا اور اسے پرانی سطح پر برقرار رکھا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بہبود، پنشنرز اور شہداء فیملی ویلفیئر اسکیموں پر بدستور 12 فیصد سالانہ منافع دیا جائے گا، (واضح رہے کہ بعض مخصوص کیٹیگریز اور بڑی سرمایہ کاریوں پر سابقہ فریم ورک کے تحت زیادہ سے زیادہ شرح 12.96 فیصد تک برقرار رہے گی)۔

وزارتِ خزانہ نے نوٹیفکیشن میں اس بات کی واضح وضاحت کی ہے کہ قومی بچت کی تمام روایتی اور اسلامی اسکیموں سے حاصل ہونے والے منافع پر مروجہ حکومتی قوانین کے مطابق ودہولڈنگ ٹیکس (WHT) اور زکوٰۃ کی کٹوتیاں لاگو ہوں گی۔