"مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں”، اداکارہ مومنہ اقبال کا ن لیگ کے ایم پی اے ثاقب چدھڑ پر سنگین الزام

لاہور: پاکستان کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال کو بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور دھمکیوں کا معاملہ طول پکڑ گیا ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے اداکارہ کی درخواست پر باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رُکنِ پنجاب اسمبلی (ایم پی اے) ثاقب چدھڑ اور ان کی اہلیہ سمیرا خان کو تفتیش کے لیے طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، این سی سی آئی اے نے فریقین کو 22 مئی بروز جمعہ کو ایجنسی کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کروانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

دوسری جانب، مذکورہ ایم پی اے نے بھی دفاعی قدم اٹھاتے ہوئے اپنے کزن کی مدعیت میں اپنے آبائی ضلع میں نامعلوم افراد کے خلاف دھمکیاں دینے کا ایک جوابی مقدمہ درج کروا رکھا ہے۔

اداکارہ مومنہ اقبال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ایک تفصیلی اور ہنگامہ خیز بیان جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ انہیں ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، شدید ذہنی دباؤ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

مومنہ اقبال کا کہنا تھا کہ میں نے اس سنگین معاملے کی متعدد بار این سی سی آئی اے، ایف آئی اے (FIA) اور پنجاب پولیس کو تحریری شکایات درج کروائیں، لیکن ملزمان کے مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہو سکی۔ انصاف فراہم کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں کی طرف سے میری حوصلہ شکنی کی گئی، جس کی وجہ سے مجھے اور میرے اہل خانہ کو شدید جانی خطرات لاحق ہیں۔

اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت دیگر اعلیٰ حکام، اہم سرکاری دفاتر اور نیوز چینلز کو ٹیگ کرتے ہوئے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات اور اپنے خاندان کے لیے فوری تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔ بعد ازاں، ایک اور انسٹاگرام اسٹوری میں مومنہ نے این سی سی آئی اے کی جانب سے فوری ایکشن لینے پر وزیراعلیٰ مریم نواز کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اداکارہ نے ایک اور تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پوسٹ سامنے آنے کے بعد انہیں مزید کئی خواتین کے میسجز موصول ہوئے ہیں، جنہوں نے تصدیق کی ہے کہ اسی ایم پی اے کی جانب سے انہیں بھی ماضی میں ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، اداکارہ نے مداحوں اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ جب تک وہ اپنا آفیشل بیان ریکارڈ نہ کروا دیں، تب تک کسی پر قبل از وقت الزام تراشی سے گریز کیا جائے۔

این سی سی آئی اے کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس ہائی پروفائل ہونے کے باعث تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔