پاکستان نے آئی ایم ایف کو قرضوں میں کمی کا 10 سالہ فریم ورک پیش کر دیا

اسلام آباد: پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک اور اہم ترین شرط کو پورا کرتے ہوئے ملک پر واجب الادا قرضوں کے بوجھ میں بتدریج کمی کا جامع اور طویل المدتی فریم ورک پیش کر دیا ہے۔

اس فریم ورک کے تحت پاکستان اگلے 10 سالوں کے دوران اپنے ‘قرض اور جی ڈی پی کے تناسب’ (Debt-to-GDP Ratio) کو نمایاں حد تک نیچے لانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو پیش کی جانے والی سرکاری دستاویزات میں سال بہ سال قرضوں میں کمی کے درج ذیل اہداف مقرر کیے گئے ہیں:

  • اگلے سال (2027): قرضوں کی شرح کو جی ڈی پی کے 67.4 فیصد پر لایا جائے گا۔

  • سال 2028: یہ شرح مزید کم ہو کر 64.7 فیصد تک پہنچائی جائے گی۔

  • سال 2029: قرض ٹو جی ڈی پی تناسب کو 61.6 فیصد پر لانے کا ہدف ہے۔

  • سال 2033: مجموعی قرضے جی ڈی پی کے 56.8 فیصد تک محدود کیے جائیں گے۔

  • سال 2034 (حتمی ہدف): اگلے دس سالہ منصوبے کے اختتام پر پاکستان اپنے قرضوں کو جی ڈی پی کے 55.7 فیصد کی محفوظ ترین سطح پر لے آئے گا۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے اس فریم ورک کو وصول کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان اہداف کا حصول صرف اسی صورت ممکن ہے جب ملک میں بنیادی ٹیکس اور اقتصادی اصلاحات کی جائیں۔

آئی ایم ایف نے تاکید کی ہے کہ اگر پاکستان نے اپنے سرکاری اخراجات پر سخت کنٹرول قائم نہ کیا تو قرضوں کا یہ بوجھ کبھی کم نہیں ہو سکے گا۔

عالمی ادارے نے مزید کہا کہ "فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ڈھانچہ درست کرنا اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ جب تک ٹیکس نیٹ کو وسیع نہیں کیا جاتا، خسارے میں چلنے والے ریاستی اداروں (SOEs) کے نقصانات کم نہیں کیے جاتے اور پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ (Circular Debt) کنٹرول نہیں ہوتا، تب تک اس فریم ورک پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوگا”۔

آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ ان کڑے اقدامات کے ذریعے ہی پاکستان اپنے بیرونی فنانسنگ کے ذرائع کو مستحکم کر سکتا ہے، جس کے بعد ملکی معیشت پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گی۔