بجٹ 27-2026؛ ایف پی سی سی آئی کی تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کم کرنے اور سپر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز

اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے لیے اپنی جامع تجاویز وزارتِ خزانہ کو ارسال کر دی ہیں۔ ان تجاویز میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے اور صنعتی ترقی کے لیے ٹیکس ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات میں سب سے اہم تجویز تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بوجھ کو کم کرنا ہے۔ فیڈریشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی موجودہ شرح 35 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کی جائے اور اس طبقے پر عائد 9 فیصد سرچارج کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔

صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ایف پی سی سی آئی نے درج ذیل اہم تجاویز بھی پیش کی ہیں:

سپر ٹیکس کا خاتمہ: کارپوریٹ سیکٹر پر عائد سپر ٹیکس کو نئے مالی سال کے بجٹ میں مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

برآمدات میں اضافہ: گڈز ایکسپورٹرز کے لیے ‘فائنل ٹیکس ریجیم’ کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ برآمدات کو دستاویزی مشکلات سے بچایا جا سکے۔

آئی ٹی سیکٹر کا تحفظ: آئی ٹی شعبے کی برآمدات پر عائد 0.25 فیصد ٹیکس کی موجودہ شرح کو 2035 تک برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ طویل مدتی سرمایہ کاری کو تحفظ مل سکے۔

ایس ایم ایز کے لیے ریلیف: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے ٹرن اوور کی حد 25 کروڑ روپے سے بڑھا کر 50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مینوفیکچررز کے لیے مراعات: مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے مینوفیکچررز پر انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ تجاویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ بجٹ کے اہداف اور ٹیکس وصولیوں سے متعلق مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، جس میں 15 ہزار 300 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس ہدف مقرر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔