سرمایہ کاری کے نظام میں بڑی اصلاحات؛ وفاقی حکومت کا ‘بورڈ آف انویسٹمنٹ’ کو ایس آئی ایف سی (SIFC) میں ضم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل کو سہل، مربوط اور تیز رفتار بنانے کے لیے ایک بڑا انتظامی فیصلہ کرتے ہوئے ‘بورڈ آف انویسٹمنٹ’ (BOI) کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) میں ضم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، اس اہم انضمام کا بنیادی مقصد ایس آئی ایف سی کو مزید بااختیار بنانا اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ادارہ جاتی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ انضمام کا یہ عمل وزیراعظم شہباز شریف کے 23 مئی کو ہونے والے دورہ چین سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ اقدام سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے میں چین سمیت دیگر عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

نئے ڈھانچے کے تحت، ایس آئی ایف سی غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، پالیسی سازی اور ان پر عملدرآمد میں مرکزی "ون ونڈو” آپریٹر کا کردار ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ، اسپیشل اکنامک زونز (SEZs) کی نگرانی اور ریگولیٹری اصلاحات کے لیے جامع روڈ میپ تیار کرنے کی ذمہ داری بھی اب ایس آئی ایف سی کے پاس ہوگی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ایس آئی ایف سی میں ضم ہونے سے فائل ورک اور بیوروکریٹک رکاوٹوں میں کمی آئے گی، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت بڑے صنعتی و تجارتی منصوبوں کے لیے عالمی سرمایہ کاری کا منتظر ہے۔