قطر سے ایل این جی سپلائی بحال؛ پاکستان نے مئی کے اسپاٹ ٹینڈرز منسوخ کر دیے

اسلام آباد: پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے مئی کے مہینے کے لیے جاری کیے گئے اسپاٹ ایل این جی ٹینڈرز کو باضابطہ طور پر منسوخ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ قطر سے ایل این جی کی سپلائی بحال ہونے اور جہازوں کی آمد کے بعد کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ مئی میں 12 سے 16 اور 24 سے 28 مئی تک کی ترسیل کے لیے بولیاں طلب کی گئی تھیں۔

پورٹ قاسم ذرائع کے مطابق، قطر سے پاکستان کے لیے تیسرا ایل این جی جہاز ایران کی خصوصی اجازت سے آبنائے ہرمز عبور کر کے پاکستانی حدود میں داخل ہو گیا ہے۔

ایل این جی کا ایک اور جہاز ‘الخریطیات’ بھی کراچی پہنچ چکا ہے، جبکہ پہلا جہاز 30 اپریل کو لنگر انداز ہوا تھا۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ سپلائی کی بحالی سے ملکی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔

دوسری جانب، سینیٹر عمر فاروق کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔

وزیر پٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پیٹرول اور ڈیزل پر لیوی 80، 80 روپے تک بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا، جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنگ کی صورتحال کے پیشِ نظر ملکی ذخائر میں اضافہ کیا گیا ہے اور اس وقت ملک میں پٹرول کا اسٹاک 6 لاکھ 62 ہزار ٹن تک موجود ہے۔

کمیٹی ارکان نے قیمتوں میں اچانک اضافے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں تمام فیصلے کمیٹی کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔