وزارتِ خزانہ کے تخمینے غلط ثابت؛ اپریل میں مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

وفاقی وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ کے تمام تخمینے اس وقت غلط ثابت ہو گئے جب ادارہ شماریات نے اپریل 2026 کے مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کیے۔ حکومت نے اپریل میں مہنگائی 8 سے 9 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی، تاہم حقیقت میں یہ شرح ڈبل ڈیجٹ کو چھوتے ہوئے 10.89 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو کہ گزشتہ 21 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 30 فیصد کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ ہاؤسنگ، پانی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 16.84 فیصد اضافہ ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال اور عالمی سطح پر سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات 18 فیصد اور ایل پی جی کی قیمتوں میں 38 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے معاشی اشاریوں کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں ایک سال میں خوراک 7.63 فیصد مہنگی ہوئی۔ اپریل کے مہینے میں ٹماٹر کی قیمت میں 57 فیصد، سبزیوں میں 40 فیصد اور انڈوں کی قیمت میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر کچھ کمی دکھائی گئی، لیکن اوپن مارکیٹ کی صورتحال اس کے برعکس ہے جہاں سرکاری نرخ پر آٹا نایاب ہو چکا ہے۔

لاہور کی اوپن مارکیٹ میں سرکاری گندم کی فراہمی رکنے کے باعث آٹے کے تھیلوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ 10 کلو آٹے کا تھیلا 910 روپے کے سرکاری نرخ کے بجائے 1050 روپے، جبکہ 20 کلو کا تھیلا 2100 روپے تک جا پہنچا ہے۔ کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق لاہور میں روزانہ 2 لاکھ تھیلوں کی طلب ہے لیکن سرکاری آٹا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے شہری مہنگے داموں آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جولائی سے مارچ کے دوران ترسیلاتِ زر اور درآمدات میں تو اضافہ ہوا، لیکن برآمدات اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اس وقت مہنگائی کے جن کو قابو کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو رہی ہے۔