خلائی میدان میں پاکستان کی ایک اور اونچی اڑان؛ مقامی طور پر تیار کردہ سیٹلائٹ ‘ای او تھری’ کامیابی سے خلا میں روانہ
راولپنڈی: پاکستان نے خلائی ٹیکنالوجی اور خود انحصاری کے سفر میں ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ ‘ای او تھری’ (EO-3) چین کے تائی یوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے کامیابی کے ساتھ خلا میں بھیج دیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق، ای او تھری سیٹلائٹ کی لانچنگ پاکستان کی تکنیکی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے (Earth Observation) کے لیے جدید ترین تصویری ڈیٹا فراہم کرے گا، جس کے دور رس اثرات درج ذیل شعبوں پر مرتب ہوں گے:
- قدرتی آفات: سیلاب، زلزلوں اور دیگر آفات سے نمٹنے کے لیے بروقت معلومات۔
- شہری منصوبہ بندی: شہروں کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی میں معاونت۔
- غذائی و ماحولیاتی تحفظ: زراعت کی بہتری اور موسمیاتی تبدیلیوں کی مانیٹرنگ۔
- معاشی ترقی: پائیدار سماجی و معاشی ترقی کے لیے مربوط ڈیٹا کی فراہمی۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ کی کامیابی سے پاکستان میں ایک ‘مربوط ارتھ آبزرویشن سسٹم’ کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ یہ نظام قومی ترجیحات کی تکمیل میں مدد دے گا اور مختلف سرکاری و نجی شعبوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس تاریخی کامیابی پر سپارکو (SUPARCO) کے انجینئرز اور سائنسدانوں کی شبانہ روز محنت اور پیشہ ورانہ عزم کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر پاکستان کے دیرینہ دوست ملک چین کا بھی شکریہ ادا کیا، جس کے غیر متزلزل تعاون سے یہ خلائی مشن پایہ تکمیل تک پہنچا۔

