وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے باعث حکومت کو یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ڈیزل کی عالمی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے اور توانائی بحران نے کئی ممالک کو متاثر کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی، جبکہ انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
اس کے علاوہ مال بردار ٹرکوں کو 70 ہزار روپے ماہانہ جبکہ بڑی گاڑیوں کو 80 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔ کسانوں کے لیے فی ایکڑ 1500 روپے سبسڈی کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان ریلوے کو بھی سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ کرایوں میں اضافہ نہ ہو۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری اقدامات کے ذریعے عوام پر بوجھ کم رکھنے کی کوشش کی، تاہم عالمی حالات کے باعث قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ملکی قیادت کی مشاورت سے کیا گیا ہے اور حکومت آئندہ بھی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش جاری رکھے گی۔

