مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کے مصالحانہ کردار پر عرب ملکوں سے اٹھنے والی تنقیدی آوازوں کے لیے پاکستان کے فیصلہ سازوں کے تجربے، حکمت و دانائی پر مبنی دور اندیش حکمت عملی کی عکاسی پر مشتمل ایسا تجزیہ جو ایک خبر بھی ہے
پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ‘ثالث’ کا لبادہ اوڑھا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، کچھ عرب حلقوں میں اس کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں لیے گئے فیصلے صرف سرحدوں کا تعین نہیں کریں گے، بلکہ آنے والی نسلوں کے مقدر کا فیصلہ کریں گے۔ ایسے میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ‘ثالث’ کا لبادہ اوڑھا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، کچھ عرب حلقوں میں اس کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا یہ قدم کوئی سفارتی غلطی ہے، یا یہ وہ "تلخ سچ” ہے جسے سننے کا حوصلہ ہم کھو چکے ہیں؟
کچھ عرب تجزیہ کار چاہتے ہیں کہ پاکستان ایران کے خلاف عرب ملکوں کی جنگ کا حصہ بن جائے جو جنگ ختم کرنے کی بجائے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شامل ہونے کو تیار بیٹھے ہیں
کچھ عرب تجزیہ کار ایک سادہ مگر تباہ کن بیانیہ بیچ رہے ہیں کہ: "جو اتحادی ہے، وہ ثالث نہیں ہو سکتا”۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستان اپنے تاریخی اور تزویراتی (Strategic) تعلقات کی بنیاد پر غیر جانبدار رہنے کے بجائے کسی ایک فریق کا حصہ بن جائے۔
یعنی واضح الفاظ میں ایران کے خلاف عرب ملکوں کی جنگ کا حصہ بن جائے جو جنگ ختم کرنے کی بجائے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شامل ہونے کو تیار بیٹھے ہیں۔
یہ سوچ پورے خطے کو ایک ایسے بند گلی میں دھکیلنے کی کوشش ہے جہاں صرف دو ہی رنگ ہوں: "سیاہ یا سفید” یعنی یا تم ہمارے ساتھ ہو، یا ہمارے دشمن کے
لیکن وہ جنگ میں کود کر ایسا کیا کریں گے جو امریکہ اور اسرائیل نہیں کر رہے، کیا ایران کی فوجی طاقت، جوہری صلاحیت، نیوی، فضائیہ سب کو تباہ نہیں کیا جا چکا؟ اب امریکہ اور اسرائیل ایران کے معاشی ڈھانچے کو تباہ کر رہا۔ پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟ کیا زمینی فوجیں اتار کر ایران پر مکمل قبضہ و غلبہ؟ کیا یہ ہو پائے گا؟
یہ سوچ پورے خطے کو ایک ایسے بند گلی میں دھکیلنے کی کوشش ہے جہاں صرف دو ہی رنگ ہوں: "سیاہ یا سفید” یعنی یا تم ہمارے ساتھ ہو، یا ہمارے دشمن کے۔
لیکن کیا بین الاقوامی سیاست اتنی ہی سادہ ہے؟
اگر خلیجی ممالک بھی اس آگ میں براہِ راست کودنے کا سوچ رہے ہیں، تو انھیں خود سے ایک سوال پوچھنا ہوگا کہوہ کیا نیا حاصل کر لیں گے جو اب تک حاصل نہیں ہو سکا؟
آج کی حقیقت یہ ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فوجی دباؤ اپنی انتہا کو چھو رہا ہے۔ سینکڑوں اہداف نشانہ بن چکے، عسکری ڈھانچہ متاثر ہے اور معیشت بوجھ تلے ہے۔
ایسے میں اگر خلیجی ممالک بھی اس آگ میں براہِ راست کودنے کا سوچ رہے ہیں، تو انھیں خود سے ایک سوال پوچھنا ہوگا:
وہ کیا نیا حاصل کر لیں گے جو اب تک حاصل نہیں ہو سکا؟
کیا مزید بمباری سے امن قائم ہوگا؟
یا یہ صرف اس آگ میں تیل کا کام کرے گی جو پورے خطے کے امن کو بھسم کر دے گی؟
ایسی جنگیں جیتی نہیں جاتیں، بلکہ صدیوں کی نفرتوں کو جنم دیتی ہیں
تاریخ گواہ ہے کہ 9 کروڑ کی آبادی اور مشکل جغرافیہ رکھنے والے ملک میں داخل ہونا تو آسان ہے، لیکن وہاں سے فاتح بن کر نکلنا ناممکن ہے۔ ایسی جنگیں جیتی نہیں جاتیں، بلکہ صدیوں کی نفرتوں کو جنم دیتی ہیں۔
ہم نے دہائیوں تک جنگوں کے اثرات بھگتے ہیں اور ایک سبق سیکھا ہے کہ دشمن کو مکمل کچل دینا مسئلے کا حل نہیں ہوتا
اصل مسئلہ جنگ کا آغاز نہیں، بلکہ اس کا انجام (War Termination) ہے۔ جنگ چھیڑنا ایک جذباتی فیصلہ ہو سکتا ہے، لیکن اسے عزت کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچانا اصل مہارت ہے۔
پاکستان اس نکتے کو اپنی جغرافیائی تاریخ اور تجربات کی روشنی میں سمجھتا ہے۔ ہم نے دہائیوں تک جنگوں کے اثرات بھگتے ہیں اور ایک سبق سیکھا ہے: دشمن کو مکمل کچل دینا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمنی کو ذلیل کرنے کی کوشش نے دوسری عالمی جنگ کی بنیاد رکھی۔
کسی بھی ریاست کو دیوار سے لگا دینا ایک ایسے خلا (Vacuum) کو جنم دیتا ہے جو پہلے سے زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے۔
ہم عرب، ایرانی، ترک اور پاکستانی، اسی زمین کا حصہ ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ہی جینا ہے، چاہے نظریاتی خلیج کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو
یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے؛ وہ کل اپنے مفادات سمیٹ کر کسی اور محاذ پر منتقل ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم عرب، ایرانی، ترک اور پاکستانی، اسی زمین کا حصہ ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ہی جینا ہے، چاہے نظریاتی خلیج کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو۔
پاکستان کا موقف کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں، بلکہ ایک پائیدار سیاسی حل کی تلاش ہے۔ ایسی فتح جو مستقل عدم استحکام لائے، وہ دراصل ایک بھیانک شکست ہوتی ہے۔
ہم نہیں چاہتے کہ تاریخ خود کو دہرائے اور خطہ ایک بار پھر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔
پاکستان کا پیغام سادہ مگر بصیرت افروز ہے:
ہم تمہارے خلاف نہیں، تمہاری بقا کے حق میں سوچ رہے ہیں۔
ہم جنگ کے آغاز کے نہیں، اس کے ہولناک انجام کے لیے فکر مند ہیں۔
ہم نہیں چاہتے کہ تاریخ خود کو دہرائے اور خطہ ایک بار پھر راکھ کا ڈھیر بن جائے۔
سفارت کاری کے اس شطرنج پر پاکستان کا یہ مخلصانہ مشورہ شاید آج کڑوا لگے، مگر تاریخ ثابت کرے گی کہ:
پاکستان تم سے زیادہ تمہارا دوست ہے۔ اسے کامیاب ہونے دو

