سول و عسکری قیادت کا معاشی و توانائی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں سول و عسکری قیادت نے معاشی نظم و نسق، توانائی منصوبہ بندی، خوراک کی سکیورٹی اور سکیورٹی پالیسیوں کو ہم آہنگ رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

ایوانِ صدر میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیر داخلہ محسن رضا نقوی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی علی پرویز ملک اور وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں عالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پاکستان کی معیشت پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔

وزرائے خزانہ اور پیٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام، مہنگے ایندھن کے دیگر شعبوں پر اثرات میں کمی اور اخراجات کو محدود رکھنے کے لیے کفایت شعاری اقدامات جاری ہیں۔

اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سلامتی، معیشت اور خوراک کے نظام پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں مربوط قومی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ معاشی نظم و نسق، توانائی منصوبہ بندی اور سکیورٹی پالیسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

اجلاس میں قومی اتفاق رائے کو برقرار رکھنے اور اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ عوام کو ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور کار شیئرنگ جیسے اقدامات اپنانے کی ترغیب دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت کو خطے کی بدلتی صورتحال اور ممکنہ ثالثی کے معاملات پر بریفنگ دی، جبکہ ملکی سلامتی اور معاشی و سیاسی صورتحال پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ممکنہ مذاکرات کی میزبانی سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔