بہادر افواج نے معرکہ حق میں تاریخی کامیابی حاصل کی، ملک کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، صدر مملکت کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملکی یا غیر ملکی قوت کو اپنے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کسی پڑوسی ملک کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ہر قسم کی دراندازی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
صدر مملکت نے کہا کہ بطور دوبار منتخب صدر پارلیمنٹ سے یہ ان کا 9واں خطاب ہے جو جمہوری نظام کے تسلسل اور قومی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں بلکہ اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، اور ریاست کی طاقت آئین، پارلیمنٹ، عوامی عزم اور مسلح افواج کے حوصلے میں مضمر ہے۔
انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے جمہوری وژن، شہید ذوالفقار علی بھٹو کے متفقہ آئین اور محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوری جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر ان کا ایمان عملی اقدامات سے ثابت ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے گئے اور 18ویں ترمیم کے ذریعے وفاقی اکائیوں کو مضبوط بنایا گیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ گزشتہ مہینوں میں پاکستان کو دونوں سرحدوں پر چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 26 فروری کی رات مغربی سرحد پر حملوں کا بھرپور جواب دیا گیا اور کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 پاکستان کو اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق دیتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
صدر زرداری نے ایران کے خلاف چھیڑی جانے والی جنگ کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں امن، تحمل اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جبکہ چین کے ساتھ تعلقات نئی بلندیوں پر ہیں اور سی پیک 2 ملک کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا۔
انہوں نے مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان کیا۔ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی بھارتی کوششوں کو آبی دہشت گردی قرار دیا۔
معاشی استحکام کو قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے صدر مملکت نے ادارہ جاتی اصلاحات، ٹیکس نظام میں شفافیت، ٹیکنالوجی اور کلین انرجی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانا ہوگا تاکہ معاشی ثمرات عام آدمی تک پہنچ سکیں۔
اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے سفرا پارلیمنٹ ہاؤس میں موجود تھے جبکہ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا اور ایوان میں نعرے بازی کی۔

