امریکا اور اسرائیل کا ایران پر مشترکہ حملہ، تہران سمیت متعدد شہروں کو نشانہ بنایا، ایران کا بھرپور جوابی وار

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت کئی شہروں پر میزائل داغ دیے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر جوابی حملے شروع کر دیے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ مہرآباد ایئرپورٹ، اصفہان، قم، کرج، کرمان شاہ، لورستان، تبریز اور بوشہر میں بھی حملوں کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس کے مطابق صدارتی محل اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی میزائل گرے۔ ایرانی حکام کے مطابق متعدد شہری زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران پر پیشگی حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اسرائیل کو لاحق خطرات کے خاتمے کیلئے کی گئی۔ اسرائیلی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کی منصوبہ بندی کئی ماہ قبل کی گئی تھی اور اس کی تاریخ ہفتوں پہلے طے کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف وسیع فوجی آپریشن شروع کردیا ہے، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے اور ایرانی میزائل نظام کو تباہ کردیا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق حملے فضا اور سمندر دونوں راستوں سے کیے گئے ہیں اور کارروائی کئی روز جاری رہ سکتی ہے۔

حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل کے شمالی علاقوں، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کی جانب میزائل داغے جبکہ بحرین، قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ دوحہ میں العدید ایئر بیس اور بحرین کے جفیر نیول بیس کے قریب دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔

ایران نے اپنی فضائی حدود بند کردی جبکہ عراق نے بھی ایئر ٹریفک معطل کر دی۔ اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے اسکول بند، عوامی اجتماعات پر پابندی اور شہریوں کو شیلٹرز میں جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عالمی مبصرین کے مطابق حالیہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری تنازع پر سفارتی رابطے جاری تھے، تاہم اس حملے کے بعد خطہ وسیع جنگ کے خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔