اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام کی سمت پیش رفت دیکھی گئی ہے، تاہم اسی دوران سامنے آنے والے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.8 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے کا ایک وفد 25 فروری سے پاکستان کا باضابطہ دورہ کرے گا۔ اس دورے کے دوران توسیعی فنڈ سہولت کے تحت جاری پروگرام کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ای ایف ایف پروگرام کے تحت اختیار کی گئی پالیسیوں سے پاکستانی معیشت کو استحکام ملا اور مالی نظم و ضبط بہتر ہوا۔ مالی سال 2025 کے دوران ملک نے مجموعی قومی پیداوار کے 1.3 فیصد کے برابر بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کیا، جو مقررہ اہداف کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق 14 برس بعد پہلی مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کا حصول بھی معاشی توازن کی جانب اہم پیش رفت ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح کو قابو میں لانے میں بھی بہتری آئی ہے۔
دوسری جانب آئی ایم ایف مشن کی آمد سے قبل جاری ہونے والے تخمینوں کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کی 28.8 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2018-19 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی، جو گزشتہ چھ برسوں میں تقریباً 6.9 فیصد اضافے کے ساتھ نمایاں حد تک بڑھ گئی۔
اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق غربت میں اضافے کی وجوہات میں عالمی وبا کے اثرات، مہنگائی میں تیزی، کم معاشی شرح نمو، دو بڑے سیلاب، اجناس کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مختلف استحکام پروگرامز کے اثرات شامل ہیں۔ صوبائی سطح پر بھی غربت میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جس میں پنجاب اور سندھ زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگرچہ مالیاتی اشاریوں میں بہتری مثبت علامت ہے، تاہم پائیدار ترقی اور سماجی تحفظ کے مؤثر اقدامات کے بغیر غربت میں کمی ایک بڑا چیلنج رہے گا۔

