زمین کو ’شہر تباہ کرنے والے‘ سیارچوں سے خطرہ، مکمل دفاعی نظام موجود نہیں: ناسا

واشنگٹن: امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے NASA کے سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین اس وقت خلا میں گردش کرنے والے ممکنہ طور پر خطرناک سیارچوں کے خلاف مکمل دفاعی صلاحیت نہیں رکھتی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اندازاً ہزاروں درمیانے حجم کے ایسے خلائی پتھر موجود ہیں جو زمین سے ٹکرانے کے فاصلے پر ہو سکتے ہیں مگر ابھی تک دریافت نہیں کیے جا سکے۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 15 ہزار ایسے سیارچے موجود ہیں جو کسی بڑے شہر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق 140 میٹر یا اس سے بڑے قطر کے ایسے اجسام کی بڑی تعداد کی نشاندہی نہیں ہو سکی، جسے تشویش ناک قرار دیا جا رہا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم فی الحال کوئی ایسا فعال نظام موجود نہیں جسے فوری طور پر استعمال کرتے ہوئے ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے۔

سن 2022 میں کیے گئے Double Asteroid Redirection Test مشن نے یہ ثابت کیا تھا کہ ہنگامی صورتحال میں راکٹ کے ذریعے کسی سیارچے کا رخ موڑنے کی صلاحیت حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک تجرباتی مظاہرہ تھا اور اسے عملی دفاعی نظام نہیں سمجھا جا سکتا۔

Johns Hopkins University سے وابستہ سائنس دانوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں حقیقی خطرہ سامنے آتا ہے تو فوری ردعمل کے لیے درکار وسائل اور تیار نظام فی الحال دستیاب نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خلائی دفاع کو مؤثر بنانے کے لیے مزید سرمایہ کاری اور تحقیق ضروری ہے۔