لیبیائی عسکری قیادت کا دورۂ پاکستان، دفاعی شراکت داری کی سمت پیش قدمی

لیبیا کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل خلیفہ بلقاسم حفتر کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے عسکری وفد کا دورۂ پاکستان، محض سفارتی یا رسمی سرگرمی نہیں بلکہ دفاعی ہم آہنگی کی مکمل اور سوچے سمجھے اسٹریٹجک عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں لیبیا کی عسکری قیادت کی کمانڈ چین کے کلیدی ستون براہِ راست شامل ہیں۔

اس دورے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ لیبیا اور پاکستان کے رابطے کسی سیاسی یا درمیانی سطح نہیں بلکہ براہِ راست عسکری قیادت کے درمیان ہو رہے ہیں

دفاعی تجزیہ کار سلمان علی کے یوٹیوب چینل فیکٹس اینڈ فگرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دورے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ لیبیا اور پاکستان کے رابطے کسی سیاسی یا درمیانی سطح نہیں بلکہ براہِ راست عسکری قیادت کے درمیان ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

یقینا یہ دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے لیبیا کے دورے کا ہی تسلسل ہے جس سے ہمیں اب معاملات عملی طور پر آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات مجموعی دفاعی پالیسی، علاقائی سلامتی اور ادارہ جاتی تعاون کے فریم ورک پر مرکوز رہی

وفد کی قیادت خود فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کر رہے تھے۔ جنہوں نے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جنرل ہیڈکوارٹرز میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات مجموعی دفاعی پالیسی، علاقائی سلامتی اور ادارہ جاتی تعاون کے فریم ورک پر مرکوز رہی اور یہیں سے اس پورے دورے کا اسٹریٹجک رخ طے ہوا۔

وفد میں شامل ڈپٹی کمانڈر اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے پاکستان کی مختلف عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ لیبیا صرف پالیسی نہیں بلکہ عملی تعاون کے میکانزم پر بھی بات کر رہا ہے۔ یہ سطح، عملدرآمد، فورس اسٹرکچر اور عملی تعاون سے براہِ راست جڑی ہوتی ہے۔

ایئر چیف نے پاک فضائیہ کی ملٹی ڈومین صلاحیتوں، خود انحصاری اور انسانی وسائل کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے لیبیا کی فضائیہ کی صلاحیت بڑھانے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی

اسی تسلسل میں لیبیائی وفد کی ایئر ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات ہوئی، جس نے اس دورے کو آپریشنل گہرائی دی۔ یہ ملاقات صرف فضائیہ سے متعلق نہیں تھی بلکہ بدلتی ہوئی علاقائی سلامتی صورتحال، فضائی طاقت کی افادیت، مشترکہ تربیت اور آپریشنل تجربات کے تبادلے پر مرکوز رہی۔

ایئر چیف نے پاک فضائیہ کی ملٹی ڈومین صلاحیتوں، خود انحصاری اور انسانی وسائل کی ترقی پر روشنی ڈالتے ہوئے لیبیا کی فضائیہ کی صلاحیت بڑھانے میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

لیبیا کو فوری، قابلِ عمل اور سیاسی دباؤ سے پاک دفاعی شراکت دار کی ضرورت ہے، اور پاکستان اس خلا کو پُر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

یہ پورا دورہ لیبیا کے موجودہ حالات سے الگ ہو کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ لیبیا اس وقت داخلی سلامتی کے چیلنجز، فضائی نگرانی کی محدود صلاحیت اور طویل المدت ادارہ جاتی کمزوری کا شکار ہے۔ ایسے میں لیبیا کے لیے فوری، قابلِ عمل اور سیاسی دباؤ سے پاک دفاعی شراکت دار کی ضرورت ہے، اور پاکستان اس خلا کو پُر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کی ڈیفنس ڈپلومیسی اب محض خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ افریقہ میں بھی ایک سنجیدہ اسٹریٹجک آپشن کے طور پر دیکھی جا رہی

اگرچہ سرکاری اعلامیوں میں JF-17 Thunder کا ذکر نہیں کیا گیا، مگر دفاعی ماہرین کے نزدیک فضائی تعاون، آپریشنل خود انحصاری، اور کم لاگت حل کے طور پر جی ایف 17 تھنڈر لیبیا جیسے ملک کے لئے منطقی حل ہے۔ پاکستان کے لیے یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی ڈیفنس ڈپلومیسی اب محض خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ افریقہ میں بھی ایک سنجیدہ اسٹریٹجک آپشن کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

ویڈیو دیکھیں 👇🏼