بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کامیابی، 12 مقامات پر فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد حملے ناکام، 58 دہشت گرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں کو بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات دہشت گردوں نے صوبے کے 12 مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام حملے پسپا کر دیے۔
کارروائیوں کے دوران اب تک 58 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ وطن کی حفاظت کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں اور پولیس کے 10 جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کا تعاقب اور ان کے خلاف آپریشنز تاحال جاری ہیں، جن کے نتیجے میں مزید نقصانات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ گوادر میں دہشت گردوں نے خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور تین بچوں سمیت پانچ افراد شہید ہو گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فضائی نگرانی کے ساتھ سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی دیگر کارروائیوں میں بھی بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الہندوستان کے 41 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیوں پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
صدرِ مملکت نے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششیں ناکام بنانے پر افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور شہدا کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
وزیر داخلہ نے بھی حملے ناکام بنانے پر فورسز کو سلام پیش کرتے ہوئے شہدا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

