معرکہ حق یا آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی شاندار عسکری کامیابی کے بعد نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی کے اثرات نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
مئی 2025 کی محدود مگر فیصلہ کن جنگ کے اسباق کی روشنی میں تینوں افواج اپنی ملٹری ڈاکٹرائنز کو اپ گریڈ کرنے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں تاکہ مستقبل کے ہائبرڈ اور ملٹی ڈومین خطرات کا مؤثر جواب دیا جا سکے
مئی 2025 کی محدود مگر فیصلہ کن جنگ نے جہاں دشمن کی عسکری کمزوریوں کو بے نقاب کیا، وہیں پاکستان کی مسلح افواج کو بھی جدید جنگ کے کئی اہم اسباق سکھائے۔ انہی اسباق کی روشنی میں تینوں افواج؛ بری، بحری اور فضائی اپنی ملٹری ڈاکٹرائنز کو اپ گریڈ کرنے کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں تاکہ مستقبل کے ہائبرڈ اور ملٹی ڈومین خطرات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
پاکستان ایئر فورس کی جانب جہاں ففتھ جنریشن J-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹس کی شمولیت خطے میں ایئر پاور بیلنس کو نئی جہت دینے جا رہی ہے، وہاں پاکستان نیوی ایک اور اسٹریٹیجک انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے
دفاٰی تجزیہ کار سلمان علی نے اپنے یو ٹیوب چینل فیکٹس اینڈ فگرز پر رپورٹ میں تینوں مسلح افواج میں ہونے والی تیاریوں کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان ایئر فورس کی جانب جہاں ففتھ جنریشن J-35 اسٹیلتھ فائٹر جیٹس کی شمولیت خطے میں ایئر پاور بیلنس کو نئی جہت دینے جا رہی ہے، وہاں پاکستان نیوی ایک اور اسٹریٹیجک انقلاب کی طرف بڑھ رہی ہے۔
8 ہنگور کلاس آبدوزوں کو بیڑے میں شامل کیا جا رہا ہے
پاکستان نیوی اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیفنس امپورٹ پروگرام پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت 8 ہنگور کلاس آبدوزوں کو بیڑے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ یہ آبدوزیں نہ صرف پاکستان کی زیرِآب صلاحیتوں میں غیر معمولی اضافہ کریں گی بلکہ بحیرہ عرب اور اس سے آگے بحرِ ہند میں پاکستان کے اسٹریٹیجک ڈیٹرنس کو بھی نئی بلندیوں تک لے جائیں گی۔
ان آبدوزوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف دشمن کے جنگی جہازوں بلکہ طیارہ بردار بحری بیڑوں کے لیے بھی ایک سنجیدہ خطرہ سمجھی جاتی ہیں
ہنگور کلاس آبدوزیں دراصل چینی Type-039B / Yuan-class کا جدید ترین برآمدی ورژن ہیں، جو ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن (AIP) ٹیکنالوجی، جدید سونار سسٹمز، اسٹیلتھ ڈیزائن اور لانگ اینڈورنس آپریشنز کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ان آبدوزوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف دشمن کے جنگی جہازوں بلکہ طیارہ بردار بحری بیڑوں کے لیے بھی ایک سنجیدہ خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔ کروز میزائل لانچ کی ممکنہ صلاحیت انہیں اسٹریٹیجک اسٹرائیک پلیٹ فارم میں بھی تبدیل کر دیتی ہے۔
ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی معاہدے کے تحت آٹھ میں سے چار آبدوزیں چین میں جبکہ چار مکمل طور پر پاکستان میں کراچی شپ یارڈ میں تیار کی جا رہی ہیں، یہ اقدام پاکستان کی ڈیفنس انڈسٹری، شپ بلڈنگ صلاحیتوں اور مقامی انجینئرنگ ایکو سسٹم کے لیے تاریخی سنگِ میل ہے
ہنگور پروگرام کی ایک اور غیر معمولی اہمیت ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی معاہدہ ہے جس کے تحت آٹھ میں سے چار آبدوزیں چین میں جبکہ چار مکمل طور پر پاکستان میں کراچی شپ یارڈ میں تیار کی جا رہی ہیں۔
یہ اقدام پاکستان کی ڈیفنس انڈسٹری، شپ بلڈنگ صلاحیتوں اور مقامی انجینئرنگ ایکو سسٹم کے لیے تاریخی سنگِ میل ہے۔ پی این ایس ہنگور جو اپنی کلاس کی فلیگ شپ ہے، پہلے ہی چین میں لانچ ہو چکی ہے اور اس کی پاکستان آمد کو ایک اسٹریٹیجک ایونٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان نیوی کی کہانی صرف آبدوزوں تک محدود نہیں۔ موجودہ دور میں پاک نیوی واضح فلیٹ ایکسپینشن ڈاکٹرائن پر کام کر رہی ہے، جس کا ہدف آنے والے برسوں میں 50 سرفیس شپس پر مشتمل بیڑا تیار کرنا ہے
پی این ایس ہنگور کے بعد پی این ایس شوشک اور پی این یاس مانگرو بھی لانچنگ کے بعد کٹھن ترین آزمائشوں سے گزاری جا رہی ہیں۔ لیکن پاکستان نیوی کی کہانی صرف آبدوزوں تک محدود نہیں۔ موجودہ دور میں پاک نیوی واضح فلیٹ ایکسپینشن ڈاکٹرائن پر کام کر رہی ہے، جس کا ہدف آنے والے برسوں میں 50 سرفیس شپس پر مشتمل بیڑا تیار کرنا ہے۔
یہ وژن پاکستان نیوی کو ایک مکمل Blue Water Navy میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھتا ہے
ان میں تقریباً 20 میجر سرفیس ویسلز جیسے فریگیٹس، ڈسٹرائرز اور کارویٹس اور 30 لائٹ کمبیٹ یا سپورٹ ویسلز شامل ہوں گے۔ یہ وژن پاکستان نیوی کو ایک مکمل Blue Water Navy میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھتا ہے۔
بابر کلاس کارویٹس کی شمولیت بحری بیڑے میں ملٹی رول فلیکسیبیل پلیٹ فارمز کا اضافہ ہے، جبکہ رومانیہ کے تعاون سے تیار ہونے والے یَرموک کلاس جہاز، اگرچہ بنیادی طور پر آف شور پیٹرول ویسلز ہیں
اس وقت پاکستان نیوی کے پاس چینی جدید ترین Type 054A/P فریگیٹس موجود ہیں جنہیں مقامی طور پر طغرل کلاس کہا جاتا ہے۔ یہ جہاز ایریا ایئر ڈیفنس، اینٹی سبمرین اور اینٹی سرفیس وارفیئر میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ بابر کلاس کارویٹس کی شمولیت بحری بیڑے میں ملٹی رول فلیکسیبیل پلیٹ فارمز کا اضافہ ہے، جبکہ رومانیہ کے تعاون سے تیار ہونے والے یَرموک کلاس جہاز، اگرچہ بنیادی طور پر آف شور پیٹرول ویسلز ہیں، مگر اپنی گائیڈڈ میزائل صلاحیتوں کے باعث انہیں عملی طور پر کورویٹس کا درجہ حاصل ہے۔
جناح کلاس فریگیٹس پاکستان میں مکمل طور پر تیار کیے جانے والے پہلے بڑے جنگی جہاز ہوں گے، جو نیول سیلف ریلیئنس اور اسٹریٹیجک خودمختاری کی علامت بنیں گے
پاکستان نیوی کے آزمودہ ذوالفقار کلاس F-22P فریگیٹس آج بھی مؤثر انداز میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جو نیوی کی بہتر اپگریڈ اور مینٹیننس پالیسی کا ثبوت ہیں۔
مستقبل کی طرف دیکھیں تو جناح کلاس فریگیٹس پاکستان میں مکمل طور پر تیار کیے جانے والے پہلے بڑے جنگی جہاز ہوں گے، جو نیول سیلف ریلیئنس اور اسٹریٹیجک خودمختاری کی علامت بنیں گے۔

چین کے ساتھ گہرا عسکری تعاون پاکستان کو بحرِ ہند میں ایک مؤثر، متوازن اور پراعتماد بحری طاقت کے طور پر سامنے لا رہے ہیں
ان تمام پیش رفتوں کو یکجا کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نیوی محض عددی اضافہ نہیں بلکہ کوالٹی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹیجک ڈیٹرنس پر مبنی بیڑا تشکیل دے رہی ہے۔
ہنگور کلاس آبدوزیں، جدید فریگیٹس، مقامی شپ بلڈنگ اور چین کے ساتھ گہرا عسکری تعاون؛ یہ سب مل کر پاکستان کو بحرِ ہند میں ایک مؤثر، متوازن اور پراعتماد بحری طاقت کے طور پر سامنے لا رہے ہیں۔

