وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں ہو رہا، نقل مکانی برفباری کی وجہ سے ہو رہی ہے، خواجہ آصف

اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وادی تیراہ میں جاری نقل مکانی کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ وہاں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا اور یہ عمل ہر سال برفباری کے باعث ہوتا ہے۔

وزیر دفاع نے پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج یا وفاقی حکومت پر ڈال رہی ہے، جبکہ وادی تیراہ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق، وادی تیراہ میں 12 ہزار ایکڑ پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے، جس سے بھاری منافع حاصل ہوتا ہے اور یہی اصل مسئلے کی جڑ ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور متاثرہ افراد کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر دفاع نے زور دیا کہ اس مائیگریشن سے پاک فوج یا وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ ایک تاریخی اور موسمیاتی عمل ہے جو صدیوں سے جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جرگے میں شامل مشران علاقے کے معتبر افراد ہیں اور امن قائم رکھنے کے لیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے برطانوی دور کے آفیشل گزٹیئرز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1880ء میں بھی آفریدی اور اکاخیل قبائل سردیوں میں تیراہ ویلی سے ہجرت کرتے تھے۔

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی نے کہا کہ یہ نقل مکانی رضاکارانہ ہے اور وفاق یا پاک فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض لوگ اس واقعے کو 8 فروری کے احتجاج میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر وفاقی حکومت نے واضح کیا کہ وادی تیراہ کے لوگوں کی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور امن قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون جاری ہے۔