اسلام آباد: سینئر صحافی عبدالقیوم صدیقی کے پروگرام AQS Live میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار احمد منصور نے فوج کے اعلیٰ عہدے دار کی جانب سے صحافیوں، اینکرپرسنز اور سوشل میڈیا انفلوئینسرز کو دی گئی بریفنگ کی تفصیلات بیان کیں۔
احمد منصور کے مطابق، یہ ملاقات معمول کے حالات میں نہیں بلکہ ایک غیر معمولی اور اہم موقع پر ہوئی کیونکہ غزہ بورڈ آف پیس کا قیام عالمی سطح پر ایک بڑا ایونٹ ہے اور پاکستان کی شمولیت کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر سب کی نظریں مرکوز تھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا ایک المیہ ہے کہ ہر ریاستی فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کو دیکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ فیصلہ ریاستِ پاکستان کا ہے۔
بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ ماضی کے برعکس اب فیصلے شخصیات کے گرد نہیں بلکہ آئین اور قانون کی حدود میں کیے جاتے ہیں اور ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کی جا چکی ہے
احمد منصور نے بتایا کہ بریفنگ میں واضح کیا گیا کہ ماضی کے برعکس اب فیصلے شخصیات کے گرد نہیں بلکہ آئین اور قانون کی حدود میں کیے جاتے ہیں اور ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کی جا چکی ہے، جس کی مثال جنرل فیض حمید کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے کھل کر ریاستی موقف پیش کیا اور تمام ابہام ختم کیے۔
انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں کیوں نہیں لایا گیا، جس پر آئینی وضاحت دی گئی کہ یہ حکومتِ پاکستان کا فیصلہ ہے اور فوج حکومت کے ماتحت ادارہ ہے، جبکہ آئین میں حکومت کو اس فیصلے کو لازمی طور پر پارلیمنٹ میں لے جانے کی کوئی پابندی نہیں۔ احمد منصور کے مطابق یہ کہنا کہ بغیر مشاورت کے دستخط کر دیے گئے، عام فہم کے بھی خلاف ہے کیونکہ جو خدشات ایک عام شہری کے ذہن میں آتے ہیں وہ اعلیٰ حکومتی سطح پر لازماً زیرِ غور آتے ہیں۔
حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے پاک فوج ہرگز نہیں بھیجی جائے گی، یہ پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور ہم کسی صورت ایسے مشن کا حصہ نہیں بنیں گے
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی فیک نیوز کی بھی تردید کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی ایس ایف میں شمولیت کے بعد پاکستانی افواج کی تین ڈویژنز حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے بھیجی جائیں گی۔ احمد منصور کے مطابق اعلیٰ عسکری عہدے دار نے واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور افواج کسی صورت ایسے مشن کا حصہ نہیں بنیں گی۔
امریکہ کے ذریعے اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک اہم پیش رفت ہے
احمد منصور کا کہنا تھا کہ غزہ بورڈ آف پیس کے ذریعے جنگ بندی اور اسرائیلی جارحیت کو روکنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، جس پر کم بات ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں جنگوں اور پراکسی وارز سے کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اس لیے اسلامی اور ہم خیال ممالک کا سفارتی حل کی جانب جانا اور امریکہ کے ذریعے اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر لانا ایک اہم پیش رفت ہے۔
معرکۂ حق کا فیصلہ سول سیاسی قیادت نے کیا اور نیشنل سیکیورٹی اجلاس میں کابینہ بھارت کو واضح پیغام دینے کے حق میں تھی
کشمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی افواج پر فخر ہونا چاہیے کہ کشیدگی کے باوجود ایک انچ زمین بھی بھارتی قبضے میں نہیں گئی، جبکہ فلسطین میں تین بڑی جنگوں کے باوجود مسئلہ جوں کا توں ہے اور فلسطینی علاقوں میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ معرکۂ حق سے متعلق احمد منصور نے بتایا کہ بھارت کو جواب دینے کا فیصلہ سول سیاسی قیادت نے کیا اور نیشنل سیکیورٹی اجلاس میں کابینہ بھارت کو واضح پیغام دینے کے حق میں تھی۔
سینئر صحافی و تجزیہ کار کے مطابق، بھارت کا منصوبہ یہ تھا کہ جاری جنگ کی آڑ میں پاکستان کو مشرقی اور مغربی دونوں محاذوں پر الجھا کر اندرونِ ملک فتنہ الخوارج کے ذریعے بدامنی اور خوف و ہراس پھیلایا جائے اور یوں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کی جائے۔ اس حکمت عملی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف مئی کے مہینے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے 53 واقعات رپورٹ ہوئے۔ تاہم فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے بروقت اور مؤثر اقدامات کرتے ہوئے بھارت کے اس منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا اور ملک کو بڑے عدم استحکام سے محفوظ رکھا۔
فوج و عوام کو آپس میں لڑانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی، ریاست عمران خان اور افغان معاملات پر اپنے موقف پر قائم ہے
انہوں نے کہا کہ ادارے نے واضح کر دیا ہے کہ کوئی بھی اپنی ذات کو ریاست اور سیاست پر مقدم رکھے گا تو اس پر زیرو ٹالرینس ہے، اور فوج و عوام کو آپس میں لڑانے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ ریاست عمران خان اور افغان معاملات پر بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔
انہوں نے بھی اس تاثر کو مسترد کیا کہ بورڈ آف پیس میں شامل ممالک اسرائیل کی ہدایات کے پابند ہوں گے
پروگرام کے میزبان عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ کسی بھی ملک میں بدامنی پھیلانے کی پہلی بنیاد عوام کو حکومتی فیصلوں سے مایوس کرنا ہوتی ہے، جبکہ ایسے بڑے فیصلے مشاورت کے بغیر نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر آٹھ اسلامی ممالک سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے سفارتی رابطے اور کابینہ میں بحث ضرور ہوئی ہوگی۔ انہوں نے بھی اس تاثر کو مسترد کیا کہ بورڈ آف پیس میں شامل ممالک اسرائیل کی ہدایات کے پابند ہوں گے، اور کہا کہ اب امریکہ کے ذریعے اسرائیل سے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سوال اٹھانے کا راستہ موجود ہے۔ پاکستان کا مؤقف شروع دن سے واضح ہے کہ اسرائیل فلسطین میں نسل کشی کر رہا ہے اور 75 ہزار اموات کسی صورت معمولی بات نہیں ہو سکتیں، اور ریاست آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہے اور مسئلے کا مستقل اور پرامن حل چاہتی ہے۔
اب کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہا۔ اب یہ واضح ہے کہ اس معاہدے کے بعد ریاست پاکستان، حکومت اور افواج کہاں کھڑی ہیں
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ بریفنگ سے سب سے مثبت بات یہ سامنے آئی ہے کہ اس سارے معاملے پر ادارے کا مؤقف کھل کر سامنے آگیا ہے اور اب کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہا۔ اب یہ واضح ہے کہ اس معاہدے کے بعد ریاست پاکستان، حکومت اور افواج کہاں کھڑی ہیں۔
سینئر صحافی کے مطابق مذکورہ ملاقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ بعض ایسی صحافتی اور سوشل میڈیا شخصیات بھی موجود تھیں جنہیں عمومی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ چہرے سمجھا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں کچھ حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ شاید کسی بڑی تبدیلی کی فضا بن رہی ہے یا فوج، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان دراڑیں پیدا ہو چکی ہیں۔ تاہم واضح طور پر کہا گیا کہ اس حوالے سے کسی قسم کے شکوک و شبہات کی گنجائش نہیں، سول ملٹری تعلقات میں مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور ریاست کے تمام فیصلے باہمی مشاورت کے ساتھ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جاتے ہیں۔

