بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے واشنگٹن میں پاکستان کی مؤثر اور کامیاب سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد نے علاقائی بحران کو عالمی سفارتی فائدے میں بدل کر امریکا میں اپنی اسٹریٹجک اہمیت دوبارہ منوا لی ہے۔
جریدے کے مطابق، مئی 2025 کے پاک بھارت تنازع پر امریکی ثالثی کے دعوے کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد امریکا اور بھارت کے تعلقات منجمد کیفیت میں داخل ہو گئے، جس کے نتیجے میں بھارت نہ صرف 50 فیصد امریکی ٹیرف کی زد میں آیا بلکہ صدارتی دورے جیسے اہم سفارتی مواقع سے بھی محروم رہا۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق، اسی صورتحال کو پاکستان نے دانشمندانہ حکمت عملی کے ساتھ سفارتی موقع میں تبدیل کیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کردار کو بھرپور انداز میں سراہا۔ پاک بھارت جنگ کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی آرمی چیف کو وائٹ ہاؤس مدعو کرنا اور بعد ازاں ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا وائٹ ہاؤس کا دورہ، اسی سفارتی کامیابی کا تسلسل تھا۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ گفتگو محض سیکیورٹی تک محدود نہیں رہی بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون تک پھیل گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاک امریکا انسدادِ دہشت گردی تعاون کی بحالی سے دونوں ممالک کے تعلقات کے ایک اہم اور پرانے ستون کو نئی زندگی ملی۔ جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی کا اہم تجارتی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت امریکی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی۔ اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان مل کر بڑے تیل کے ذخائر کو ترقی دیں گے، جبکہ دسمبر 2025 میں پاکستان نے ایف-16 طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے امریکی منظوری بھی حاصل کی۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق، امریکا نے بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر کے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی، جبکہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے نہ ہونے پر امریکا نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔
جریدے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیروں میں بھارتی حکومت کے رویے پر شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔ جنوری 2026 میں پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کی تجدید پر زور دینا بھی اس بات کی علامت ہے کہ اسلام آباد ایک متوازن، خودمختار اور کثیرالجہتی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر پاکستان نے اسٹریٹجک سمجھ داری اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف علاقائی چیلنجز کو اپنے حق میں بدلا بلکہ واشنگٹن میں خود کو ایک ناگزیر اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دوبارہ منوا لیا، جبکہ بھارت سفارتی اور تجارتی محاذ پر دباؤ اور تنہائی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

