جے ایف-17 تھنڈر کا راج: بھارت انڈونیشیا برہموس ڈیل پر پانی پھر گیا، پاکستان کی ملٹری ڈپلومیسی نے جیو پولیٹیکس کا رخ بدل دیا

سینئر صحافی و تجزیہ کار سلمان علی نے ایک ویڈیو رپورٹ میں پاکستان کی دفاعی انڈسٹری کی تیز رفتار ترقی کی بھارت کے مقابلے میں اسٹریٹجک برتری کا تفصیلی احاطہ کیا ہے۔

پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ممکنہ جے ایف-17 تھنڈر ڈیل غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے

سلمان علی کا کہنا ہے پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر کی دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مانگ ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے۔ پاکستان کے بعد میانمار، نائیجیریا اور آذربائیجان کی جانب سے جے ایف سیونٹین تھنڈر اہنی فضائی افواج کا حصہ بنا چکے ہیں۔ بنگلہ دیش، عراق، لیبیا اورسوڈان کے ساتھ ایک اہم ترین اسلامی ملک انڈونیشیا بھی پاکستان سے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی خریداری میں سنجیدہ پیش رفت کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

دیگر ممکنہ خریداروں کے برعکس پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ممکنہ جے ایف-17 تھنڈر ڈیل غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اسی دوران انڈونیشیا بھارت سے ساڑھے چار سو ملین ڈالر کے برہموس سپرسانک کروز میزائل خریدنے کے انتہائی قریب تھا۔

بھارت کی تشویش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ انڈونیشیا کو جنوبی بحیرہ چین میں چین کے بڑھتے ہوئے عسکری اثر و رسوخ کے مقابل ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے

یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے بھارت کی دفاعی اسٹیبلشمنٹ میں کھلبلی مچ چکی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، انڈونیشیا کے وزیر دفاع جعفری شمس الدین اور پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات نے نئی دہلی کو الرٹ کر دیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے انڈونیشیا کو 40 سے زیادہ 4.5 جنریشن جے ایف-17 ملٹی رول فائٹر جیٹس کی پیشکش کی گئی، جو پاکستان اور چین کے مشترکہ طور پر تیار کردہ طیارے ہیں۔

بھارت کے تشویش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ انڈونیشیا کو جنوبی بحیرہ چین میں چین کے بڑھتے ہوئے عسکری اثر و رسوخ کے مقابل ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے، اور ایسے میں جکارتہ کا پاکستان اور چین سے منسلک دفاعی پلیٹ فارمز کی طرف جھکاؤ بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔

پاکستان خطے میں چینی تعاون سے تیار کردہ تھنڈر طیارے کو منظم اور وسیع حکمتِ عملی کے تحت عالمی منڈی میں متعارف کرا رہا ہے

انڈونیشیا کی جانب سے صرف جے ایف-17 ہی نہیں بلکہ پاکستانی ساختہ کامبیٹ ڈرونز، خصوصاً شاہپر ڈرون میں دلچسپی نے بھِی بھارتی خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش، جو پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات میں غیر معمولی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جے ایف-17 کی خریداری پر باضابطہ بات چیت میں داخل ہو چکا ہے۔

یہ تمام عوامل مل کر اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں چینی تعاون سے تیار کردہ تھنڈر طیارے کو منظم اور وسیع حکمتِ عملی کے تحت عالمی منڈی میں متعارف کرا رہا ہے۔

بھارت میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ انڈونیشیا نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا کر نہ صرف برہموس ڈیل کو پسِ پشت ڈال دیا بلکہ خطے میں غلط اسٹریٹجک پیغام بھی دے دیا ہے

بھارتی اسٹریٹجک حلقوں کے نزدیک انڈونیشیا کا پاکستان کے جے ایف-17 پر غور کرنا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب برہموس میزائل ڈیل تقریباً حتمی مراحل میں تھی، دو طرفہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

بھارت میں یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ انڈونیشیا نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھا کر نہ صرف برہموس ڈیل کو پسِ پشت ڈال دیا بلکہ خطے میں غلط اسٹریٹجک پیغام بھی دے دیا ہے۔ اسی لیے بھارتی تجزیہ کار اسے “پیٹھ میں چھرا گھونپنے” کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔

اگر بھارت کے ساتھ یہ ڈیل طے پا جاتی تو انڈونیشیا، فلپائن کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کا دوسرا ملک ہوتا جو برہموس میزائل سسٹم حاصل کرتا

یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ برہموس سپر سانک کرواز میزائل کی ڈیل کے لئےبھارت اور انڈونیشیا کے درمیان مذاکرات مکمل ہو چکے تھے اور صرف روس کی باضابطہ منظوری باقی تھی، کیونکہ برہموس ایرو اسپیس میں روس کا 49.5 فیصد حصہ ہے جبکہ بھارت کے DRDO کے پاس 50.5 فیصد کنٹرولنگ شیئر موجود ہے۔

اگر یہ ڈیل طے پا جاتی تو انڈونیشیا، فلپائن کے بعد جنوب مشرقی ایشیا کا دوسرا ملک ہوتا جو برہموس میزائل سسٹم حاصل کرتا۔ مگر اب پاکستان کے ساتھ جے ایف-17 مذاکرات نے اس پورے منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

اگرچہ جے ایف-17 تھنڈر ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر نہیں، مگر کم لاگت اور مسلسل اپ گریڈز نے اسے ترقی پذیر اور درمیانی معیشت رکھنے والے ممالک کے لیے ایک انتہائی پُرکشش آپشن بنا دیا ہے

دوسری جانب، جے ایف-17 تھنڈر کی تکنیکی خصوصیات بھی اس بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی بڑی وجہ ہیں۔ بلاک تھری ورژن کو 4.5 جنریشن فائٹر کا درجہ دیا جاتا ہے، جس میں AESA ریڈار، جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، بیونڈ وژول رینج میزائل فائر کرنے کی صلاحیت، اور ملٹی رول آپریشنز شامل ہیں۔

اگرچہ یہ ففتھ جنریشن اسٹیلتھ فائٹر نہیں، مگر کم لاگت اور مسلسل اپ گریڈز نے اسے ترقی پذیر اور درمیانی معیشت رکھنے والے ممالک کے لیے ایک انتہائی پُرکشش آپشن بنا دیا ہے۔ کامرہ میں واقع پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس میں سالانہ 20 سے 25 طیاروں کی تیاری کی صلاحیت بھی پاکستان کو بروقت ڈیلیوری کا اسٹریٹجک فائدہ دیتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تربیت سے آگے بڑھ کر ہارڈویئر سپلائی کی طرف قدم، پاکستان کو ایک ابھرتے ہوئے سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر پیش کر رہے ہیں

عرب دنیا میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے عسکری قدم بھی اسی بڑے رجحان کا حصہ ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ، سوڈان کو ممکنہ ہتھیاروں کی فراہمی، اور مشرق وسطیٰ میں تربیت سے آگے بڑھ کر ہارڈویئر سپلائی کی طرف قدم، پاکستان کو ایک ابھرتے ہوئے سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اگرچہ تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ عرب دنیا کی اندرونی تقسیم کے باعث پاکستان کو محتاط رہنا ہوگا، مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ جے ایف-17 تھنڈر اس نئی دفاعی سفارت کاری کا مرکزی ستون بن چکا ہے۔

بھارت کے لیے یہ پیش رفت انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف برہموس ڈیل بلکہ پورے خطے کی دفاعی سیاست اور طاقت کے توازن پر پڑتے دکھائی دے رہے ہیں

یوں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جے ایف-17 تھنڈر ڈیل صرف تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ بڑی اسٹریٹجک شفٹ کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے لیے یہ پیش رفت انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف برہموس ڈیل بلکہ پورے خطے کی دفاعی سیاست اور طاقت کے توازن پر پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔