قومی ایئر لائن کی نجکاری: بولی کا پہلا مرحلہ مکمل، تین کنسورشیم میدان میں

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے جہاں بولی کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔

قومی ایئر لائن کی خریداری کے لیے تین پری کوالیفائیڈ بڈرز نے اپنی بولیاں جمع کرا دی ہیں، جنہیں آج سہ پہر ساڑھے تین بجے باضابطہ طور پر کھولا جائے گا۔

بولیوں کے بعد پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کے اجلاس میں ریفرنس قیمت طے کی جائے گی، جس کی حتمی منظوری کابینہ کمیٹی برائے نجکاری دے گی۔

مشیرِ نجکاری محمد علی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نجکاری کے اس مرحلے کی تکمیل ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران کوئی بڑی نجکاری نہیں ہو سکی تھی۔

ان کے مطابق، ریفرنس قیمت خفیہ رکھی گئی ہے، جسے پہلے پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ اور بعد ازاں کابینہ کمیٹی کی منظوری حاصل ہوگی۔

نجکاری کمیشن کے مطابق، پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کرنے کا منصوبہ ہے۔ کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصد حصص خریدنے کے لیے 90 دن کی مہلت دی جائے گی۔

حکومتی فیصلے کے تحت گزشتہ سال پی آئی اے کے 654 ارب روپے کے واجبات حکومت نے اپنے ذمے لے لیے تھے، جس کے باعث اس بار نجکاری کا عمل سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پُرکشش قرار دیا جا رہا ہے۔

بولی کے عمل میں تین کنسورشیم شامل ہیں جن میں لکی سیمنٹ کی قیادت میں پہلا کنسورشیم، عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں دوسرا کنسورشیم اور تیسرا کنسورشیم ایئر بلیو پرائیویٹ لمیٹڈ پر مشتمل ہے، جبکہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی نیلامی کے عمل سے دستبردار ہو چکی ہے۔

حکام کے مطابق، اگر بولیاں ریفرنس قیمت سے زیادہ ہوئیں تو کھلی نیلامی ہوگی، بصورت دیگر سب سے زیادہ بولی دہندہ کو قیمت میچ کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ صرف 7.5 فیصد قومی خزانے میں جائے گا۔

نئے سرمایہ کار پر لازم ہوگا کہ وہ اگلے پانچ سال میں کم از کم 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے، جبکہ ملازمین کو ایک سال تک ملازمت کا تحفظ، تنخواہوں اور مراعات کی ذمہ داری بھی نئی انتظامیہ کے ذمے ہوگی۔