حکومتِ پاکستان کی جانب سے پہلے مرحلے میں 250 ملین ڈالرز کے مساوی پانڈا بانڈز جاری کرنے کے منصوبے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پانڈا بانڈ کے اجرا سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کی پیش رفت، درکار منظوریوں اور چینی سرمایہ کاروں سے رابطوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران، چینی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے آیا، جسے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری اور پاکستان کی معاشی استحکام کی علامت قرار دیا گیا۔
شرکاء نے موجودہ مارکیٹ صورتحال کو پانڈا بانڈ کے اجرا کے لیے سازگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے چینی سرمایہ مارکیٹ میں داخلے کا یہ ایک اہم موقع ہے۔
اجلاس میں دستاویزی کارروائی اور ضمانتوں کی تکمیل سے بھی آگاہ کیا گیا جبکہ متعلقہ چینی حکام سے حتمی منظوری جلد ملنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
وزارت خزانہ حکام نے بتایا کہ پانڈا بانڈ کا پہلا اجرا جنوری میں متوقع ہے، جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں تقریباً 250 ملین ڈالر کے مساوی بانڈ جاری کیے جائیں گے، جبکہ مجموعی طور پر پانڈا بانڈ پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر تک اجرا کا ہدف رکھا گیا ہے۔ آئندہ مراحل کے لیے تیاری کا عمل بھی بیک وقت جاری ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے پانڈا بانڈ کے اجرا کو محتاط قرضہ جاتی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے قرضوں کے بوجھ میں توازن پیدا ہوگا اور مالی وسائل میں تنوع آئے گا۔
انہوں نے مارکیٹ پر مبنی اور ذمہ دارانہ فنانسنگ کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پائیدار معاشی استحکام کے لیے نئے مالی ذرائع کے استعمال پر توجہ دے رہی ہے۔
دریں اثنا، وفاقی وزیر خزانہ سے ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر کمپنیوں اور سرمایہ کاری اداروں کے وفد نے بھی ملاقات کی، جس میں ٹیلی کام شعبے کو درپیش ٹیکس، ضابطہ جاتی اور سرمایہ کاری سے متعلق مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
اجلاس میں ڈیجیٹل رابطہ کاری کے فروغ، کاروباری ماحول میں بہتری، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ٹیکس نظام میں نرمی کی تجاویز زیر غور آئیں۔
وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل رابطہ کاری میں ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے نجی شعبے کی شمولیت، نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا۔
اجلاس میں سرمایہ کاری اور ٹیکس اصلاحات سے متعلق تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، جو تفصیلی مشاورت کے بعد قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے گا۔

