جعلی ڈگری کیس: جسٹس طارق جہانگیری کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے بینچ پر عدم اعتماد، کیس منتقلی کا مطالبہ
اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران غیر معمولی صورتحال سامنے آگئی، جب جسٹس طارق جہانگیری نے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر پر مشتمل بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کیس کسی دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
کیس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی، جس دوران جسٹس طارق جہانگیری خود روسٹرم پر آئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں صرف تین دن کا نوٹس دیا گیا، پٹیشن اور مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا، حالانکہ معاملہ 34 سال پرانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ان کی اپیل زیر التوا ہے، اس لیے مفادات کا ٹکراؤ موجود ہے اور چیف جسٹس اس کیس کو نہیں سن سکتے، جبکہ کووارنٹو کی درخواست ہمیشہ سنگل بینچ سنتا ہے، ڈویژن بینچ نہیں۔
جسٹس جہانگیری نے یہ بھی اعتراض اٹھایا کہ انہیں سنے بغیر عدالتی کام سے روک دیا گیا، جو پاکستان اور بھارت کی عدالتی تاریخ میں نظیر نہیں رکھتا، اور کہا کہ کسی چپڑاسی یا پٹواری کو بھی اس طرح کام سے نہیں روکا جاتا۔
انہوں نے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر حلفاً کہا کہ ان کی ڈگری اصلی ہے اور کراچی یونیورسٹی نے کہیں یہ نہیں لکھا کہ ڈگری جعلی ہے، جبکہ سندھ ہائیکورٹ بھی ڈگری منسوخی کے فیصلے پر اسٹے دے چکی ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ انصاف جسٹس جہانگیری کو بھی ویسے ہی ملے گا جیسے کسی اور کو ملتا ہے۔
عدالت نے کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو مکمل ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے جسٹس طارق جہانگیری کو پٹیشن اور تمام متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کیس کی سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کردی، جبکہ درخواست گزار کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی استدعا بھی سامنے آئی۔

