وزارتِ خزانہ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت جاری اصلاحات سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں شامل اقدامات کوئی نئی یا اچانک عائد کی گئی شرائط نہیں بلکہ حکومتِ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پہلے سے طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کا فطری تسلسل ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے اتوار کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، ای ایف ایف پروگرام درمیانی مدت کی ساختی اصلاحات کے لیے ترتیب دیا گیا ہے جنہیں مرحلہ وار انداز میں نافذ کیا جاتا ہے، اور ہر جائزے کے ساتھ وہ اقدامات شامل کیے جاتے ہیں جو پروگرام کے آغاز میں طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہوں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ دوسرے جائزے کے بعد طے پانے والا ایم ای ایف پی پہلے جائزے کے ایم ای ایف پی کا تسلسل ہے اور اسے مکمل کرتا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں کی اشاعت، نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی استعداد میں اضافہ، بدعنوانی کے زیادہ خطرات سے دوچار اداروں کے لیے ایکشن پلان، اور اینٹی منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق اقدامات ای ایف ایف پروگرام کے آغاز یعنی مئی 2024 سے ہی شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق، ترسیلاتِ زر کے نظام کو بہتر بنانے، مقامی بانڈ مارکیٹ میں رکاوٹوں کا جامع مطالعہ، شوگر سیکٹر کی اصلاحات، ایف بی آر کے لیے اصلاحاتی روڈ میپ، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری، پبلک سروس آبلیگیشن معاہدے، اور کاروباری ماحول میں بہتری کے لیے قانونی ترامیم بھی اسی طے شدہ حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کو ’’نئی شرائط‘‘ قرار دینا حقائق کے منافی ہے کیونکہ یہ سب اصلاحات ملک کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے مرحلہ وار نافذ کی جا رہی ہیں۔

