اسلام آباد میں منعقدہ قومی علما و مشائخ کنونشن میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اہم خطاب کرتے ہوئے قومی یکجہتی، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کے بنیادی نکات پر زور دیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کا نہیں بلکہ بھارت کا وطیرہ ہے، جبکہ پاکستان دشمن کو چھپ کر نہیں بلکہ للکار کر نشانہ بناتا ہے۔ انہوں نے ’’ریاستِ طیبہ‘‘ اور ’’ریاستِ پاکستان‘‘ کے گہرے تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے محافظینِ حرمین کا شرف پاکستان کو عطا کیا ہے اور پاکستان و سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔
فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ جس قوم نے علم اور قلم کو ترک کیا، وہاں انتشار و فساد نے جگہ لے لی۔ عزت اور طاقت محنت اور علم سے حاصل ہوتی ہے، تقسیم سے نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی ریاست میں جہاد کا اعلان صرف ریاست ہی کر سکتی ہے، کوئی فرد یا گروہ نہیں۔ ان کے مطابق ’’معرکہ حق‘‘ میں اللہ کی مدد سے کامیابی ملی۔
عاصم منیر نے علما پر زور دیا کہ وہ قوم کو متحد رکھیں اور معاشرے میں برداشت، وسعتِ نظر اور امن کی فضا کو فروغ دیں کیونکہ قومی سلامتی، یکجہتی اور اسلامی اقدار کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
قبل ازیں، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک جادو ٹونے سے نہیں بلکہ دن رات کی محنت سے ترقی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی اور معاشی ترقی کی کوششیں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں، اسی لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ افواج پاکستان کی قربانیوں کا مذاق اڑانے والے ملک کی عزت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’معرکہ حق‘‘ میں قوم کی دعائیں قبول ہوئیں اور ہر سپاہی کی بے مثال کاوشیں شامل رہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ فرقہ واریت کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے، مگر آج بھی کچھ علما ایسے ہیں جو امت کو تقسیم کی طرف لے جاتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد پاکستان کے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جب کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں لوگ خوارج کے حملوں کا شکار ہیں، ایسی صورتحال میں ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو قومی معاملات پر متحد ہونا ہوگا۔

