حکومتِ پاکستان کی برطانیہ سے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کی باضابطہ درخواست

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے سابق معاونِ خصوصی شہزاد اکبر اور یوٹیوبر عادل راجہ کی برطانیہ سے حوالگی کی باضابطہ درخواست برطانوی حکام کے سپرد کر دی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے درمیان ملاقات میں پاکستان-برطانیہ تعلقات، سکیورٹی تعاون اور مختلف باہمی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ برطانیہ میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کی وطن واپسی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

ملاقات کے دوران، وزیر داخلہ نے شہزاد اکبر اور عادل راجہ کی حوالگی کے تمام متعلقہ کاغذات برطانوی ہائی کمشنر کے حوالے کیے۔ محسن نقوی نے واضح کیا کہ دونوں افراد پاکستان میں مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں اور انہیں فوری طور پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

محسن نقوی نے بیرون ملک بیٹھ کر ریاستِ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف شواہد بھی فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آزادی اظہار کا احترام کرتی ہے مگر فیک نیوز اور جھوٹی مہمات کسی بھی ملک کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والوں کی واپسی کے لیے برطانوی تعاون کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی برطانوی عدالت یوٹیوبر عادل راجہ کی اپیل مسترد کر چکی ہے جبکہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں شہزاد اکبر سمیت متعدد شخصیات کے پاسپورٹ بھی بلاک کیے جا چکے ہیں۔